لکھنؤ:مرچوں والےڈرون کےاستعمال کا منصوبہ

اتر پردیش کے دیگر علاقوں میں ڈرونز کا استعمال فضائی سرویلنس کے لیے کیا جاتا ہے تاہم اس سے قبل ہجوم کو کنٹرول کرنے لیے ان کا استعمال نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناتر پردیش کے دیگر علاقوں میں ڈرونز کا استعمال فضائی سرویلنس کے لیے کیا جاتا ہے تاہم اس سے قبل ہجوم کو کنٹرول کرنے لیے ان کا استعمال نہیں کیا گیا

بھارت کے شہر لکھنؤ میں پولیس مشتعل مظاہرین کے خلاف مرچوں کا چھڑکاؤ کرنے والے ڈرون استعمال کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

بھارتی اخبارانڈین ایکسپریس کے مطابق لکھنؤ پولیس کی جانب سے خریدے گئے ڈرون دو کلو گرام وزن اٹھا سکتے ہیں۔

لکھنؤ بھارتی ریاست اتر پردیش کا دارالحکومت ہے۔

اخبار کے مطابق سینیئرسپرانٹینڈنٹ یاشسوی یادو کا کہنا تھا کہ ’ہم مشتعل مظاہرین کو ان ڈرونز کے ذریعے پیپر سپرے پھینک کر کنٹرول کرنےکا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

ایس پی یادو کا مزید کہنا تھا کہ یہ طریقہ لاٹھی چارج سے ’کم ناگوار‘ ہو گا اور پولیس کو امید ہے کہ اس سے زیادہ موثر بھی ثابت ہو گا۔

اخبار کے مطابق اتر پردیش کے دیگر علاقوں میں ڈرونز کا استعمال فضائی سرویلنس کے لیے کیا جاتا ہے تاہم اس سے قبل ہجوم کو کنٹرول کرنے لیے ان کا استعمال نہیں کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ یہ ایک مثبت قدم ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ لوگ ان ڈرونز کو مار گرانے کی کوشش کریں گے۔

ٹائمز آف انڈیا کی ویب سائٹ پر ایک شخص نے لکھا کہ اس منصوبے پر ’مزید غور‘ کرنا چاہیے کیونکہ کسی کو پیپر سپرے سے ٹارگٹ کرنے کے لیے ڈرون کو کافی نیچا اڑنا پڑے گا جس کے باعث یہ تباہ کیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کی رائے میں یہ طریقہ بلا تمیز ہو گا۔

ایک شخص کا کہنا تھا کہ’ کیا ہجوم پر، چاہے وہ مشتعل ہی کیوں نہ ہو، مرچوں کا سپرے پھینکنا قانون کے دائرے میں آتا ہے؟ یہ سپرے علاقے میں رہنے والے دیگر لوگوں کو اور راہگیروں کو بھی متاثر کرے گا جو کسی بے قابو ہجوم کا حصہ نہیں ہوں گے۔‘