بلغاریہ میں پناہ کے درخواست گزار مشکلات میں

بلغاریہ میں ترکی کے ساتھ 270 کلومیٹر طویل سرحد کے قریب ایلہووو نامی قصبے میں ایک کنٹرول روم ہے جہاں سی سی ٹی وی کیمروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
دو سال قبل اس سرحد کی نشاندہی صرف دو کچی سڑکیں تھیں، ایک ترکی کی حدود میں اور ایک بلغاریہ میں۔ اب یہاں ڈیڑھ میٹر چوڑی خاردار تار کی باڑ موجود ہے۔ باڑ کا 30 کلومیٹر کا حصہ بن چکا ہے جبکہ باقی سو کلومیٹر ابھی زیرِ تعمیر ہے۔
نائب وزیرِ داخلہ فلپ گونیوو کا کہنا ہے کہ ’اس باڑ کا مقصد یہ ہے کہ مہاجرین کا رخ قانونی سرحدی چوکیوں کی طرف موڑا جائے جہاں ہم یورپی سرحدوں کے قوانین کو بہتر انداز میں نافذ کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ مشکل اور طویل راستوں پر سے بچے اٹھا کر پیدل گزرنے کے مقابلے پر درخواست گزاروں کے لیے ایسی سرحدی چوکیاں زیادہ محفوظ ہیں۔
سمگلر
گاڑیوں پر نصب مختلف قسم کے کیمروں سے یہ منظر مکمل ہو جاتا ہے۔ نگرانی کے لیے بنائے گئے پرانے میناروں کی جگہ جدید ترین چوکیاں بنا دی گئی ہیں۔ آٹھ سال قبل یورپی یونین میں شمولیت کے بعد سے بلغاریہ اس سرحد کے حفاظتی انتظامات پر 30 کروڑ یورو خرچ کر چکا ہے جس کا زیادہ تر حصہ یورپی یونین سے ہی آیا ہے۔
2020 تک اس کام کو مکمل کرنے کے لیے حکام کو مزید دس کروڑ یورو میسر ہیں۔ تاہم اسی عرصے میں پناہ گزینوں کو معاشرے کا بہتر انداز میں حصہ بنانے کے لیے صرف 20 لاکھ دیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
انسانی حقوق پر کام کرنے والا ادارہ بلغارین ہلسنکی کمیٹی کے ڈائریکٹر کراسیمیر کانیف ان چوکیوں سے ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انھیں پار کرنے کا ایک طریقہ ہے اور وہ ہے سمگلروں کو پیسے دینا اور اب صرف انھی پناہ گزینوں کو چوکیوں سے گزرنے کا موقع ملے گا جو مالی استطاعت رکھتے ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں کسی ٹرک میں بند رہنے میں خطرہ ہی خطرہ ہے۔
بلغاریہ میں غیر قانونی پناہ گزینوں کی ایک تہائی تعداد ترک سرحد پر پکڑی جاتی ہے جبکہ بقیہ رومانیہ اور سربیا کی سرحدوں پر۔ پناہ گزینوں کی کوشش ہوتی ہے کہ براستہ ہنگری جرمنی جایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلغاریہ میں پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا تناسب یورپی یونین میں دیگر ممالک کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے۔ قانونی پناہ حاصل کرنے کا مطلب ہے کہ وہ یورپی یونین میں کہیں بھی سفر کر سکتے ہیں اور 90 دن تک رہ سکتے ہیں۔
گذشتہ دو سالوں میں ہرمانلی پناہ گزین کیمپ میں حالات بہتر ہوئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ جرمنی جانے کے بعد کم ہی لوگ واپس آتے ہیں۔
کچھ پناہ گزین اپنی درخواستوں پر بہت زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے ناخوش ہیں۔ تاہم زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ 2013 کے مقابلے میں اب حالات بہتر ہوگئے ہیں۔اس وقت یہاں 1600 پناہ کے طلب گار موجود ہیں۔
ادھر مغربی حکومتیں بلغاریہ پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ یہ بات واضح کریں کہ وہ کن کن لوگوں کو پناہ دیتی ہے۔
یہاں پہنچنے والے افراد میں سے 90 فیصد کے پاس کوئی قانونی دستاویزات نہیں ہوتیں کیونکہ تمام دستاویزات وہ سمگلر لے لیتے ہیں جو انھیں ٹرانسپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
ادھر بلغاریہ کی انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکار آنے والے لوگوں سے تفتیش کرتے ہیں جن میں سے زیادہ تر شامی کرد ہیں۔ کچھ پناہ گزینوں کو قریبی بسمانتسی جیل میں رکھا جاتا ہے تاکہ تفتیش مکمل کی جا سکے۔ یہاں پر لوگوں کو ایک سال تک بھی رکھا جا سکتا ہے۔
بسمانتسی جیل کے مقیم ایک پناہ کے درخواست گزار شخص کا کہنا ہے کہ ’سب سے زیادہ مسئلہ یہ انتظار ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ یہ سب ختم ہو جائے گا مگر اس وقت آپ انتظار کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس جیل میں شدت پسند مسلمان ہیں، اس شخص کا کہنا تھا کہ ’لوگ یہاں ایک دوسرے سے زیادہ بات نہیں کرتے۔ تاہم شدت پسندی کے حوالے سے جو میں نے سنا ہے وہ معاملہ پیسے کا ہے اور پیسہ زیادہ تر سعودی عرب سے آتا ہے۔ اس کا سیاست یا دین سے کوئی تعلق نہیں۔‘







