’اقوام متحدہ کے امن مشن میں زبردست تبدیلیاں ضروری‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کی جانب سے تیار کروائی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عالمی ادارے کے قیام امن کے آپریشنز میں زبردست تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ اس رپورٹ کی کمیشننگ ہیٹی اور لائبیریا میں سامنے آنے والے جنسی استحصال کے الزامات سے قبل کی گئی تھی۔
<link type="page"><caption> امن مشن کے فوجی سیکس کے بدلے اشیا دیتے ہیں: رپورٹ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150610_un_pecekeepers_sex_allegations_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
اس رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ جو ممالک بچوں کے حقوق کی پامالی کرتے ہیں انھیں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے فوجی فراہم کرنے سے روک دیا جانا چاہیے۔
رپورٹ بنانے والے پینل نے وسط افریقی ممالک میں فرانسیسی فوجیوں کے ہاتھوں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال پر اٹھ کھڑے ہونے والے ہنگامے کے درمیان منگل کو یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو پیش کی۔
اس میں کہا گیا ہے کہ جنسی استحصال کے ملزم فوجیوں کو مقدمے سے استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے اور ان کے ممالک کو چاہیے کہ وہ ان کے خلاف کی جانے والی تادیبی کارروائیوں کو ظاہر کریں۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے قیام امن کے مشن میں کام کرنے والے جو افراد جنسی استحصال کے مرتکب پائے جائیں، ان کے ملک کا نام لیا جائے اور انھیں شرمندہ کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہ
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ جنسی استحصال کے الزامات کے متعلق جانچ چھ ماہ کے اندر ہونی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور نوبیل امن انعام یافتہ مشرقی تیمور کے سابق صدر ہوزے ریموس ہورٹا نے جنسی بدفعلیوں کو اقوام متحدہ کے لیے ’افسوسناک‘ قرار دیا۔
انھوں نے کہا ’اس چیز نے اقوام متحدہ کی سب سے زبردست قوت اس کی سالمیت کی نفی کی ہے۔‘
مسٹر ریموس نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے اس تاریک باب کو بند کرنے کے لیے پرعزم رہنمائی اور زبردست کوششوں کی ضرورت ہے۔‘
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق اگر جنسی استحصال کا الزام غیر فوجیوں پر لگتا ہے تو انھیں استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
ریموس نے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں اقوام متحدہ کے مشن کو فوراً ہی ملزمان کے ممالک کے ساتھ تفتیش میں تعاون کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا: ’یہ بات ذہن میں بہت واضح ہونی چاہیے۔ آپ کوئی وحشیانہ فعل کرتے ہیں تو آپ کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کو اس ملک کے قانون کے تحت سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آپ اقوام متحدہ کی چھتری کے نیچے نہیں چھپ سکتے۔‘
ریموس نے بتایا کہ رپورٹ تیار کرنے والے پینل نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کو ایسے پروگراموں کا مالی تعاون کرنا چاہیے جس کے تحت جنسی استحصال کے شکار افراد کی مدد کی جا سکے اور اگر اس کی وجہ سے کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو اس کی نگہداشت ہو سکے۔
16 اراکین پر مشتمل پینل نے اقوام متحدہ سے پیش قدمی کے آپریشن کے لیے کسی ملک سے قیام امن فوج کےمطالبے میں ’انتہائی احتیاط‘ برتنے کے لیے کہا۔
پینل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کو عسکری طور پر دہشت گردی مخالف آپریشنز میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اس کی صلاحیتوں سے ماورا ہے۔







