جنسی استحصال: اقوامِ متحدہ میں ویٹیکن پر تنقید

،تصویر کا ذریعہAFP
پادریوں، راہبوں اور بھکشوؤں کے ہاتھوں بچوں کے استحصال کے معاملے میں اقوامِ متحدہ میں پہلی بار ویٹیکن کی سرعام مخالفت کی گئی ہے۔
چرچ سے پوچھا گیا ہے کہ وہ کیوں اس معاملے کو بچوں کے خلاف جرم کے بجائے مسلسل محض اخلاقیات پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔
بچوں کے جنسی استحصال سمیت دیگر معاملات پر ویٹیکن کے حکام اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنے پیش ہوئے تھے۔
آرچ بشپ سِلوانو توماسی کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم کی ’کبھی کوئی توجییہ نہیں ہوتی‘ اور ہر بچے کو محفوظ ہونا چاہیے۔
اس سے پہلے ویٹیکن نے بچوں کے استحصال سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
جب ویٹیکن نے اس بات پر بحث کی کہ اس مقدمے کو ان ممالک میں سنایا جانا چاہیے جہاں یہ واقعات پیش آئے ہیں تو اُن پر جنسی استحصال کے الزامات پر مایوس کن ردِ عمل کا الزام عائد کیا تھا۔
ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ ویٹیکن کے سفارتی ادارے ’ہولی سی‘ کو عوام کے سامنے بچوں سے جنسی زیادتیوں کے معاملے پر اپنا دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔
پوپ فرانسس نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ویٹیکن کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو چرچ میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کی روک تھام کرے گی اور اس کا شکار ہونے والوں کی مدد کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بچوں کے خلاف جرائم کی تعریف کو مزید توسیع دیتے ہوئے بچوں کے جنسی استحصال کو بھی اس میں شامل کیا۔
ویٹیکن نے پینل سے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے ان تمام تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں جن کی مدد سے بچوں کے حقوق کے نفاذ میں مدد ملے۔
آرچ بشپ توماسی کا اپنے ابتدائی بیان میں کہنا تھا کہ ’سچ کا سامنے آنا ضروری ہے کہ ماضی میں کیا ہوا تھا، تاکہ جو ہُوا اس سے مستقبل میں بچا جا سکے۔ اس لیے بھی کہ انصاف ہو اور متاثرین کے زخم بھر سکیں۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ برس مارچ میں اپنے انتخاب کے بعد پوپ فرانسس نے کہا تھا کہ جنسی استحصال کے معاملے سے نمٹنا کلیسا کی ساکھ کے لیے کلیدی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال نے گذشتہ برس جولائی میں رومن کیتھولک عیسائیوں کے ’ہولی سی‘ کو ایک سوالنامہ ارسال کیا تھا جس میں 1995 سے اب تک ویٹیکن کے علم میں لائے جانے والے جنسی استحصال کے واقعات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
اس سوالنامے میں پوچھا گیا تھا کہ آیا جنسی استحصال کے ملزم پادریوں، راہبوں اور بھکشوؤں کو بچوں سے رابطے میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی اور یہ کہ ان افراد کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی گئی۔
اپنے جواب میں ہولی سی نے اصرار کیا تھا کہ وہ رومن کیتھولک چرچ سے ’الگ اور مختلف‘ ہیں اور وہ مذہبی پیشواؤں اور رہنماؤں کے بارے میں صرف اسی صورت میں معلومات فراہم کرتے ہیں جب یہ ان ممالک کے حکام کی جانب سے طلب کی گئی ہوں جہاں وہ کام کر رہے ہیں۔
ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب پادریوں کے چناؤ کا طریقۂ کار تبدیل کیا جا چکا ہے اور انھیں ضابطۂ اخلاق کا پابند بنانے کے لیے کلیسا کے قانون پر بھی نظرِ ثانی کی گئی ہے۔
برطانوی قومی سکیولر سوسائٹی نے اس جواب پر تنقید کی اور کہا کہ دنیا بھر میں گرجا گھروں پر ہولی سی کا منظم کنٹرول ہے۔







