’تینوں بہنوں سے مارچ میں پوچھ گچھ کی گئی تھی‘

برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ کی رہائشی تین بہنوں کو مارچ میں سعودی عرب جانے والی پرواز سے قبل روکا گیا تھا۔
ان بہنوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ نو بچوں سمیت شام داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بی بی سی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صغریٰ داؤد اور زہرہ داؤد سے مارچ میں سعودی عرب جانے والے ایک پرواز اس لیے چھوٹ گئی تھی کہ سکیورٹی حکام نے انھیں پوچھ گچھ کے لیے روک لیا تھا۔
تاہم بعد میں انھیں ٹکٹیں پھر سے بُک کرنے اور سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
اس سے پہلے پولیس نے بتایا کہ تین میں سے ایک خاتون نے اپنے خاندان کے ساتھ ’رابطہ‘ کیا ہےاور اشارہ دیا ہے کہ وہ پہلے سے ہی شام میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ زہرہ داؤد نے اپنے اہلِ خانہ کو یہ بتانے کے لیے رابطہ کیا کہ وہ شام میں ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان بہنوں کا بھائی احمد داؤد شام میں شدت پسندوں کے لیے لڑ رہا ہے۔ شام کے کچھ حصوں پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔
تینوں بہنیں اور ان کے بچوں نے پہلے پہل جو ٹکٹ بک کرائے تھے ان کے مطابق مارچ کی 19 تاریخ کو انھیں مذہبی سفر کی غرض سے مانچسٹر سے جدہ جانا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بریڈفورڈ میں ایک ایجنٹ اور لندن میں ایک کمپنی نے ان کی پرواز کیا انتظام کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے اس نہ ہونے والے سفر سے متعلق دستاویزات دیکھیں ہیں۔
تاہم اس خاندان کو سکیورٹی حکام نے روک لیا اور ان سے پوچھ گچھ کی جس کی وجہ سے وہ اس پرواز میں سوار نہ ہو سکیں۔
ہوائی اڈوں پر پولیس کے پاس خصوصی اختیار ہیں کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبہ پر کسی کو بھی روک کر سوال پوچھ سکتی ہی۔
اس واقعے کے چند دن بعد داؤد خاندان نے دوبارہ ٹکٹیں بک کرائیں اور اپنے ٹریول ایجنٹ سے کہا انھوں نے پولیس سے بات کر کے معاملات ٹھیک کرا لیے ہیں۔
لیکن ایسٹر کی چھٹیوں اور سفری قافلے میں زیادہ افراد ہونے کی وجہ سے مئی سے پہلے انھیں سیٹیں نہ مل سکیں۔
28 مئی کو وہ مانچسٹر سے روانہ ہوئیں اور انھیں 11 جون تک سعودی عرب میں رہنا تھا۔ لیکن 9 جون کو سعودی عرب سے واپس برطانیہ آنے کی بجائے وہ ترکی چلی گئیں۔
انھوں نے اپنی رہائش کے ذمہ دار مینیجر کو نو جون کو بتایا کہ وہ برطانیہ واپس جانے سے قبل مکہ جانا چاہتی ہیں اور جاتے وقت اپنے کمروں کی چابیاں ساتھ لے گئیں۔
انسدادِ دہشت گردی کی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان خواتین کو روکا گیا تھا لیکن انکوائری کے دوران پتہ چلا کہ سعودی عرب کا یہ سفر مذہبی نوعیت کا ہے لہٰذا اس گروپ کو سفر سے روکا نہ گیا۔
’روزانہ کی بنیاد پر بہت سے لوگوں کو فلائٹ پکڑنے سے پہلے اس طرح کی پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ اس گروپ کو قانونی طور پر سفر سے روکا نہیں گیا تھا۔‘
مغربی یارکشائر کی پولیس کا کہنا ہے کو یہ جان کر بہت تشویش میں ہے کہ ایک خاتون شاید شام پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ اطلاع یہی ہے لیکن اس کی تصدیق کے لیے مزید معلومات نہیں ہیں۔
یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نو بچوں کی ماؤں نے سفر سے قبل تعلیمی اداروں سے بچوں کو سکول سے لے جانے کی اجازت نہیں لی تھی۔
پرائمری سکول کی قائم مقام ہیڈ ٹیچر تلویندر بھمبرا نے بتایا ’ہمیں بچوں کے بارے میں بہت تشویش ہے اور ہم ہر طرح سے پولیس اور متاثرہ خاندان کی مدد کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل ایک خاتون کے علیحدہ رہنے والے شوہر نے کہا ہے کہ انھیں اپنی بیوی کے گمشدہ ہونے پر ’صدمہ‘ ہوا ہے۔
زہرہ داؤد کے شوہر سید زبیر احمد نے پاکستان میں بی بی سی بات کر تے ہوئے کہا کہ وہ سات ماہ پہلے برطانیہ سے اس وقت چلے آئے تھے جب ان کی بیوی نے ان سے’گریز‘ کیا۔ تب سے انھوں نے اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔ انھیں کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا کہ ان کی اہلیہ شام جانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ برطانیہ کی حکومت اس خاندان کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔
دوسری دو بہنوں کے شوہروں نے بھی بڑے جذباتی انداز میں اپنی بیگمات سے واپس آ جانے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ انھیں بہت یاد کرتے ہیں اور ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔







