دمام میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد کے باہر خودکش دھماکہ، چار ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب کے شہر دمام میں حکام کے مطابق شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد کے باہر خودکش حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران<link type="page"><caption> یہ اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150522_saudi_shia_mosque_suicide_attack_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت داخلہ کا کہنا ہی کہ حملہ آور مسجد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا۔
اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ پیغام کے ذریعے قبول کی ہے۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی اہلکار مسجد کے قریب کھڑی ایک مشکوک گاڑی کے قریب گئے تو اس میں زوردار دھماکہ ہوا جس سے چار افراد ہلاک ہوگئے اور قریب کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مبینہ حملہ آور بھی شامل ہے۔
ترجمان کے مطابق حملہ آور مسجد العنود میں جمعے کی نماز کے وقت نمازیوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
اس سے قبل ایک عینی شاہد احمد نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ مسجد کے قریب سے گزر رہے تھے کہ انھیں ’زور دار دھماکہ‘ سنائی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں مسجد کے ایک اہلکار نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب اس کو عمارت میں داخل ہونے سے روکا گیا جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں حملہ آور سمیت ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ایک راہگیر بھی ہلاک ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر مبینہ خودکش حملہ آور اور جائے وقوعہ کی تصاویر شیئر کی جارہی ہیں جن میں مسجد کے باہر کار پارکنگ کی جگہ سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر دھماکے وقت مسجد کے اندر کے مناظر کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی جا رہی ہے۔
اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ جمعے کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد پر ایک خودکش حملے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے تھے اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔







