جوہری مذاکرات ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں: ایران

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات بدھ کو ویانا میں دوبارہ شروع ہوئے ہیں جس میں اعلیٰ امریکی اہلکار بھی شامل ہے۔
یہ مذاکرات جوہری معاہدے پر عمالدرآمد کے حوالے سے مرکزی دستاویز اور دیگر تکنیکی نکات پر ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی مذاکرات کار عباس ارغچی نے ایرانی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات 30 جون کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا ’ہم ایسے مرحلے پر ہیں جہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے ۔۔۔ مذاکرات 30 جون کی ڈیڈ لائن تک جاری رہیں گے اور ہو سکتا ہے اس کے بعد بھی جاری رہیں۔‘
حالیہ مذاکرات میں زیادہ تر سفارتکاروں کی بجائے تکنیکی ماہرین مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں۔ تاہم بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں امریکی نائب سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن، ایران کے دو نائب وزیر خارجہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار شریک ہیں۔
یاد رہے کہ وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران کے جوہری معاہدے پر مغربی ممالک کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد عبوری معاہدہ طے کیا تھا اور جواد ظریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران انھیں ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے مکمل اختیار سونپا گیا ہے۔
ایران اور مغربی ممالک کے درمیان عبوری جوہری معاہدہ طے پا جانے پر ایران میں جشن منایا گیا تھا لیکن ملک کے سخت گیر موقف رکھنے والے لوگ جوہری معاملے پر معاہدے سے خوش نہیں ہیں۔
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں حتمی معاہدے کی کوئی ’ضمانت‘ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اس معاہدے پر اتفاق کے بعد ایرانی اور امریکی حکام اپنے اپنے ملک میں سخت گیر رہنماؤں کو اس معاہدے کی حمایت پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایران کی پارلیمان کے بند کمرے میں ہونے والے ایک اجلاس کی ویڈیو ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو کا معیار زیادہ اچھا نہیں ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ پارلمینٹ کے بند کمرے میں اجلاس کی یہ ویڈیو موبائل فون کے ذریعے بنائی گئی۔
اس ویڈیو میں ایران کے وزیر خارجہ اور جوہری مذاکرات کار جواد ظریف اور سخت گیر موقف رکھنے والے رکن مہدی کوچکزادہ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دکھایا گیا ہے۔







