ایران میں زیر حراست امریکی صحافی کے خلاف مقدمے کی سماعت

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ صحافی کے خلاف مقدمے کی بند کمرے میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔ صحافی جیسن رضایان گذشتہ دس ماہ سے جاسوسی کے الزامات کی وجہ سے حراست میں ہیں۔
جیسن رضایان ایرانی نژاد امریکی شہری ہیں، اور اُن پر حکومت کی خفیہ معلومات مخالف حکومتوں کو منتقل کرنے کا الزام ہے۔
امریکی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے مدیر نے مقدمے کی بند کمرے میں سماعت پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔
جاسوسی کے الزامات کے تحت اس مقدمے میں رضایان کو 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ان کے خلاف مقدمے کی سماعت تہران میں انقلابی عدالت میں ہو رہی ہے۔ عموما قومی سلامتی اور سیاست سے متعلق مقدمات کی سماعت انقلابی عدالتوں میں ہوتی ہیں۔
ایران نے اس مقدمے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے لیکن واشنگٹن نے اس حوالے سے سخت بیانات دیے ہیں۔
اخبار کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کرتے ہوئے یہ شرمناک اقدامات جاری ہیں اور اب ہم نے دیکھا کہ دنیا سے چھپ کر مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔ اس مقدمے کی ویسی جانچ پڑتال نہیں ہو پائے گی جیسی کہ ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس نظام میں انصاف نہیں ہے، ذرا سا بھی نہیں۔ اس لیے اچھے اور معصوم افراد کی قسمتیں معطل رہتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار کا کہنا ہے کہ مسٹر رضایان کو بغیر کسی جرم کے حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں ایران کی بدنام جیل میں کئی ماہ تک قید رکھا گیا جہاں طبی سہولیات بھی میسر نہیں تھیں۔
اطلاعات کے مطابق جیسن رضایان کو وکیل سے ملنے کے لیے ڈیڑھ گھنٹہ دیا گیا اور ’اُن پر عائد الزامات ثابت کرنے کے لیے استغاثہ نے عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY IMAGES
مسٹر رضایان کی وکیل لیلیٰ احسن نے ایران کے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ اُن کے موکل پر مخالف حکومتوں کے تعاون سے جاسوسی کرنے اور خفیہ معلومات اکٹھا کر کے ایران کے خلاف منفی پراپیگنڈا کرنے کا الزام ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے امور پر بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے ایران سے جوہری مذاکرت کے دوران کئی مرتبہ جیسن رضایان کا معاملہ اُٹھایا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ زیر حراست صحافی کے خاندان کو واپس امریکہ بلا لیا گیا ہے اور صدر اوباما نے کہا کہ وہ مسٹر رضایان کی بحفاظت واپسی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے موقعے پر جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری معاہدے ہونے کو ہے، جیسن رضایان کا معاملہ بہت حساس نوعیت اختیار کر گیا ہے۔
بعض تجزیہ کار امریکی صحافی کی حراست کو جوہری مذاکرت کے معاملے میں ایران کی جانب سے بھرپور اختیار حاصل کرنے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
رضایان سنہ 2012 سے تہران میں واشنگٹن پوسٹ کے بیورو چیف کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔







