ایرانی آرٹسٹ پر مسودہ قانون کا مذاق اڑانے کا مقدمہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایران کی ایک آرٹسٹ اور سرگرم سیاسی کارکن پر خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں تک رسائی روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین کے مسودوں کا مذاق اڑانے پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
آتنا فرقدانی نے اپنے بنائے گئے ایک کارٹون میں اس قانون کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ممبر پارلیمان کو جانور دکھایا تھا۔
28 سالہ آتنا فرقدانی کو پروپیگنڈا کرنے، ممبر پارلیمان اور اعلیٰ رہنما کی توہین کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔
اس قانون سے ایران میں کئی دہائیوں سے جاری خاندانی منصوبہ بندی ختم ہو جائے گی، قطع قنات یا عورتوں میں نس بندی غیر قانونی قرار دی جائے گی اور مانع حمل کی چیزوں پر ممانعت ہو گی۔
آتنا فرقدانی کو پہلی مرتبہ اگست 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایران کے پاسداران انقلاب ان کے گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد انھیں گھر سے جیل لے گئے تھے۔
ان کو دسمبر میں رہا کر دیا گیا تھا لیکن پھر جنوری میں ایک آن لائن ویڈیو کے منظر عام آنے کے بعد جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ جیل میں گارڈز نے ان پر تشدد کیا تھا اور ہر دن ان سے تقریباً نو گھنٹے تک تفتیش کی جاتی تھی، انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے تین ہفتوں کے بعد آتنا فرقدانی جیل میں برے حالات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر چلی گئیں۔ فروری میں انھیں دل کا دورہ پڑنے اور تھوڑی دیر تک اپنا ہوش کھو دینے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس کے بعد سے انھیں تہران کی ایون جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لیے ایران پر تحقیق کرنے والی رھا بحرینی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں آتنا پر مقدمہ چلانے پر بہت تشویش ہے۔‘
’وہ ضمیر کی قیدی ہیں اور انھیں ان کے نظریات اور آزادئ اظہار کا حق استعمال کرنے کی وجہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔‘
’ہمارے نقطۂ نظر کے مطابق انھیں فوراً اور غیر مشروط طور پر رہا کر دینا چاہیے۔‘
رھا بحرینی کہتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا مقدمہ صرف ایک دن کا ہو۔ ’اگر ان پر جرم ثابت ہوتا ہے تو انھیں دو سال قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جس قانون کے مسودے کا آتنا نے مذاق اڑایا اس کے تحت مردوں میں نس اور عورتوں میں رضاکارانہ طور پر قطع قنات کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور عورتوں کی ضبط تولید کے مواد تک رسائی روک دی جائے گی۔
جب مارچ میں اس قانون کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت اس پر بہت تنقید ہوئی تھی۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمان نے اسے منظور کر دیا تو عورتوں کے حقوق کئی دہائیاں پیچھے چلے جائیں گے۔
عورتوں کے حقوق کے گروہوں نے خبردار کیا ہے کہ ضبط تولید تک رسائی کو روکنے سے عورتیں غیر محفوظ اسقاط حمل کی طرف مجبور ہو جائیں گی۔
آتنا فرقدانی کے کارٹون کو ان کی گرفتاری کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک پر بہت شیئر کیا گیا ہے اور ان کے مقدمے کے متعلق بنائے گئے فیس بک کے صفحے پر دنیا بھر سے حمایت کے پیغامات آئے ہیں۔







