اسامہ بن لادن کے معاون کو عمر قید کی سزا

الفواز پر اسامہ کو مواصلاتی آلات پہچانے کا الزام تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنالفواز پر اسامہ کو مواصلاتی آلات پہچانے کا الزام تھا

اسامہ بن لادن کے سابق معاون کو 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارتخانے پر بم حملے میں معاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مشرقی افریقہ کے ممالک تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں کے نتیجے میں 224 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خالد الفواض کو اسی سال لندن سے گرفتار کیاگیا تھا اور 14 سال بعد انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

الفواض کی عمر 52 برس ہے اور ان کو اسامہ بن لادن کا لندن میں ترجمان اور لندن میں القاعدہ کے لیے میڈیا کا مشیر کہا جاتا تھا۔

سعودی شہری الفواض کو فروری میں سازش کے چار الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

استغاثہ کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ الفواض لندن میں دفتر چلاتے تھے جہاں سے وہ بن لادن کے فتوے اور مذہبی احکامات میڈیا تک پہنچاتے تھے۔

الفواض نے اس دفتر کے ذریعے مواصلاتی آلات، جن میں ایک سیٹیلائیٹ فون بھی شامل تھا، القاعدہ کے رہنما کو بھیجا تھا۔

ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کے ’ابتدائی اور سب سے زیادہ قابلِ اعتماد نائبین میں سے تھے‘ جو کہ افغانستان میں القاعدہ کا تربیتی مرکز چلا رہے تھے اور بعد میں اسامہ کے لندن میں ’میڈیا مشیر‘ کے طور پر کام کرتے رہے۔