’یمن پر بلاتفریق بمباری عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
یمن میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اتحادیوں کی جانب سے آبادی والے علاقوں میں بلاتفریق بمباری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بمباری میں 1400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں آدھے لوگ عام شہری تھے۔
یاد رہے کہ جمعہ کو سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ پورے صعدہ کو ’ملٹری زون‘ تصور کرتے ہیں اور عام شہری علاقہ چھوڑ دیں۔
عبداللہ صالح کے گھر پر حملہ
یمنی خبر رساں ایجنسی ’خبر‘ کے مطابق اتوار کی صبح صنعا میں سابق صدر عبداللہ صالح کے گھر پر بمباری ہوئی تاہم وہ اور ان کے اہلِ خانہ محفوظ رہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی تنظیم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ شمالی یمن کے علاقے صعدہ سے لوگوں کو نکلنے میں دشواری ہو رہی۔
ایم ایس ایف کی ٹیریسا سینکرسٹوول کا کہنا ہے کہ ایندھن کی کمی کے باعث شہریوں کو پیدل سفر اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے یمن میں امدادی کاموں کے نمائندے جوہانز وین ڈی کلو نے کہا ہے کہ ان کو شمالی یمن میں تازہ ترین بمباری پر تشویش ہے۔
’بہت سے عام شہری صعدہ میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایندھن کی کمی کے باعث ان کی ٹرانسپورٹ تک رسائی مشکل ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ایم ایس ایف کی کارکن ٹیریسا جو صعدہ کے ایک ہسپتال میں تعینات ہیں نے بتایا کہ رات کو شدید بمباری کی گئی اور رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب اور اتحادیوں نے 140 حملے کیے۔
’یہاں نہ بجلی ہے اور نہ فون ۔۔۔ اور اس کی وجہ سے شہریوں کو خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے متنبہ کیا کہ اتحادیوں کی جانب سے صعدہ چھوڑ دینے کا اعلان ہر کسی نے نہیں سنا۔ یہ پمفلٹ پرانے صعدہ میں گرائے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم سات حاملہ خواتین کا علاج کر رہی تھی لیکن ان میں سے پانچ خواتین شدید بمباری کے باعث چلی گئیں۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہفتے کو یمن پر 130 حملے کیے گئے جن میں باغیوں کی عمارتوں، اسلحہ ڈپو اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بریگیڈیئر جنرل احمد آسیری نے کہا کہ یہ حملے صعدہ سے سعودی عرب میں راکٹ فائر کرنے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔







