سعودی اتحاد کی بمباری جاری، ’عام شہری صعدہ سے نکل جائیں‘

سدا میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں حوثی تحریک کے بانی حسین الحوثی کے مقبرے کو بھی نقصان پہنچا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسدا میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں حوثی تحریک کے بانی حسین الحوثی کے مقبرے کو بھی نقصان پہنچا ہے

سعودی عرب کی سربراہی میں اتحادی جہازوں نے سعودی عرب اور یمن کے سرحدی علاقے صعدہ میں پمفلٹ گرائے ہیں جن میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں۔

یہ پمفلٹ صوبہ صعدہ کے علاقے پرانے صعدہ میں گرائے گئے ہیں جو حوثی جنگجوؤں کا گڑھ ہے۔

حالیہ دنوں میں حوثی جنگجوؤں نے صعدہ سے سعودی عرب میں شیلنگ کی ہے جس میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری فضائی کارروائی کے باعث 1200 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 600 عام شہری تھے۔

سعودی عرب اور اتحادیوں کی کارروائی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد آسیری نے کہا ہے کہ عام یمنیوں کو مشورہ ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے حوثیوں کے گڑھ سے دور رہیں۔

احمد آسیری نے کہا کہ صعدہ کے علاقے میں رات گئے کی جانے والی فضائی کارروائی ان جنگجوؤں کے خلاف تھی جو سدے سے سعودی عرب میں شیلنگ کرتے ہیں۔

سعودی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہمارا کام ان (حوثیوں) تک پہنچنا ہے جو ان حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور جو صعدہ میں چھپے ہوئے ہیں۔‘

سعودی عرب کی ریاستی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اتحادیوں کی تازہ ترین کارروائی میں حوثی کمانڈ اور کنٹرول سینٹروں کو نشانہ بنایا گیا۔

صعدہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں حوثی تحریک کے بانی حسین الحوثی کے مقبرے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل احمد آسیری نے بدھ کو سعودی شہر نجران پر شیلنگ کرنے کے جواب میں شدید کارروائی کا کہا تھا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے پانچ روز کے لیے مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ عام لوگوں تک امداد پہنچ سکے۔

تاہم جمعے کو سینیئر حوثی اہلکار محمد البخیتی نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ اس جنگ بندی کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا اور حوثی اس حوالے سے اس وقت جواب دیں گے جب جنگ بندی کے منصوبے کی تفصیلات بتائی جائیں گی۔