پرندے بچاؤ بتیاں بھجاؤ

،تصویر کا ذریعہReuters
مہاجر پرندوں کی سہولت کے لیے امریکی ریاست نیویارک میں سرکاری عمارتوں سے غیر ضروری روشنی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پرندوں کو بہار اور خزاں کے موسم میں اپنے راستے تلاش کرنے میں آسانی ہو۔
مہاجر پرندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے راستے اور سمت کا اندازہ ستاروں سے کرتے ہیں لیکن برقی روشنی سے ان کے بھٹکنے کا امکان رہتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ عمارتوں سے ٹکراجاتے ہیں۔
اس صورت حال کو روشنی کی مہلک کشش یا جاذب نظری کا نام دیا گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کی وجہ سے امریکہ میں ایک ارب پرندے ہر سال ہلاک ہو جاتے ہیں۔
بحرِ اوقیانوس کی جانب پرواز کرنے والی کڑوروں مہاجر پرندے ہرسال نیویارک سے ہوتے ہوئے گزرتے ہیں۔
حکومت کے اس فیصلے سے یہ امید کی جارہی ہے کہ اب جو پرندے رات میں اس شہر سے گزریں گے ان کا مزید شمال کی جانب جانے کا زیادہ امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
نیویارک کے گورنر اینڈریو کوؤمو نے پیر کو کہا کہ بہار اور خزاں کے مشغول ترین ہجرت کے ایام میں سرکاری عمارتوں پر لگی تیز بیرونی روشنیوں کو رات 11 بجے اور صبح صادق کے درمیان گل رکھا جائے گا۔
حکومت نیشنل آڈوبون سوسائٹی کے روشنی گل کرو پروگرام میں شامل ہوگی ہے۔ خیال رہے کہ نیویارک کی متعدد معروف عمارتیں جیسے روکرفیلر سنٹر، کرسلر بلڈنگ اور ٹائم وارنر سنٹر پہلے سے ہی سوسائٹی کے روشنی بجھاؤ پروگرام میں شامل ہیں۔
مسٹر کوؤمو نے کہا کہ ’نیویارک کے جنگلوں، جھیلوں اور ندیوں میں مہاجر چڑیوں کے تحفظ میں تعاون کی جانب یہ آسان اقدام ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے جدید ’آئی لو این وائی برڈنگ‘ نامی ویب سائٹ کا اعلان کیا جو ’برڈ واچنگ‘ یا پرندہ بینی کے ساتھ بجلی بجھاؤ مہم میں شرکت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی کہ اس میں کیسے شرکت کی جاسکتی ہے۔
یہ تنظیم پہلے سے ہی دوسرے کئی بڑے شہروں میں مہاجر پرندوں چڑیوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان شہروں میں بالٹیمور، شکاگو، سین فرانسسکو وغیرہ شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روشنی کی مہلک کشش واربلر، تھرشز مہاجر پرندے کو مقامی پرندوں کے مقابلے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔
موہلین برگ کالج میں علم طیور اور کنزرویشن بایلوجی کے پروفیسر ڈینیئل کلیم جنھوں نے پرندوں کے کھڑکیوں سے ٹکرانے کی نفسیات پر مطالع کیا ہے انھوں نے گذشتہ سال بی بی سی کو بتایا تھا کہ پرندوں کا کھڑکیوں سے ٹکرانے کا عمل بطور خاص پریشان کن ہے کیونکہ ان میں کمزور کے علاوہ مضبوط ترین پرندوے بھی اتنی ہی تعداد میں مرتے ہیں۔
امریکی ناول نگار اور پرندوں سے محبت کرنے والے جوناتھن فرینزن نے اسی ماہ نیویاکر میں شائع ایک مضمون میں مینیوسوٹا سٹیڈیم بنانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ انھوں نے پرندوں کے شیشوں سے ٹکرانے کو کم کرنے کے لیے مخصوص پیٹرن والے شیشوں کا استعمال نہیں کیا ہے۔







