وہ بچی جسے پرندے تحفے دیتے ہیں

گابی کا ان پرندوں کے ساتھ رشتہ سنہ 2011 میں اتفاقاً شروع ہوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنگابی کا ان پرندوں کے ساتھ رشتہ سنہ 2011 میں اتفاقاً شروع ہوا

کئی لوگ اپنے باغیچے میں پرندوں کو پسند کرتے ہیں لیکن ایسا کم ہی ہوتاہے کہ یہ پسندیدگی دو طرفہ ہو۔

امریکہ میں ایک ایسی بچی ہے جو اس معاملے میں بہت سے لوگوں سے خوش قسمت ہے۔ وہ اپنے باغیچے میں کوؤں کو کھانا کھلاتی ہے اور وہ بدلے میں اس کے لیے تحفے لاتے ہیں۔

آٹھ سالہ گابی مین کے گھر میں ایک ڈبہ ہے جس میں اس کی اب تک کی سب سے قیمتی جمع پونجی موجود ہے۔

وہ کہتی ہیں ’آپ اسے قریب سے دیکھ سکتے ہیں لیکن انھیں چُھونا مت۔‘ یہ وہ تنبیہہ ہے جو وہ اکثر اپنے چھوٹے بھائی کو کرتی ہے۔ یہ کہنے کے بعد وہ ہنس دی۔

اس ڈبے میں ایک قطار میں پلاسٹک کے لفافوں میں کئی چیزیں رکھی گئی ہیں۔ ایک پر لگی پرچی پر تحریر ہے ’فیڈر کی جانب سے سیاہ ٹیبل نو نومبر سنہ 2014 دوپہر 2:30 ‘۔ اس کے اندر ایک ٹوٹا ہوا بلب ہے۔ ایک میں شیشے کے ٹکڑے ہیں جن کے کنارے سمندر کے پانی کی وجہ سے سیدھے ہو چکے ہیں۔

یہ چیزیں اس نے خود جمع نہیں کیں بلکہ یہ کوؤں کی جانب سے دیا گیا ایک تحفہ ہیں

،تصویر کا ذریعہKATY SEWALL

،تصویر کا کیپشنیہ چیزیں اس نے خود جمع نہیں کیں بلکہ یہ کوؤں کی جانب سے دیا گیا ایک تحفہ ہیں

ہر چیز کو انفرادی طور پر رکھا گیا ہے۔ گابی کہتی ہیں ہم انھیں جتنا ممکن ہو اچھی حالت میں رکھتے ہیں۔

انھوں نے اپنی پسندیدہ چیزیں دکھائی۔ ان میں ایک چاندی کے رنگ کی بال، ایک سیاہ بٹن، ایک نیلا پیپر کلپ، ایک پیلا موتی، ایک گدلا فوم کا ٹکڑا اور کئی ایسی چیزیں۔ ان میں سے پیشتر کچرا اور گندی ہیں۔ یہ چیزیں کسی بھی چھوٹی سی لڑکی کے لیےعجیب و غریب ذخیرہ ہوگا لیکن گابی کے لیے سونے سے بھی قیمتی ہیں۔

یہ چیزیں اس نے خود جمع نہیں کیں بلکہ یہ کوؤں کی جانب سے دیا گیا ایک تحفہ ہیں۔

انہیں میں سے ایک دل کی شکل کا موتی ہے جسے وہ سب سے قیمتی تحفہ سمجھتی ہیں۔ اس کے بارے میں وہ کہتی ہے ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہkaty sewall

گابی کا ان پرندوں کے ساتھ رشتہ سنہ 2011 میں اتفاقاً شروع ہوا۔ اس وقت وہ چار برس کی تھیں اور عموماً کھانا گراتی تھیں۔ وہ گاڑی سے نکلتی تو چکن نگٹس ان کی گود سے گرتے، کوے لپک کر اسے اٹھاتے۔ جلد ہی یہ کوے کھانے کے حصول کی امید لیے اسے تلاش کرنے لگے۔

وہ بڑی ہوئی تو بس سٹیشن تک جاتے جاتے وہ اپنا کھانا ان کوؤں کے ساتھ بانٹنے لگی۔ جلد ہی اس کا بھائی بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا۔دوپہر ہوتے ہی کوے گابی کی بس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تاکہ ان کے کھانے کا دور شروع ہو۔

گابی کی ماں کبھی برا نہیں مناتیں کہ اس کے کھانے کا زیادہ تر حصہ کوؤں کی دعوت میں چلا جاتا ہے۔

گابی کی ماں لیزا کھانا بانٹنے پر کبھی ناراض نہیں ہوئیں

،تصویر کا ذریعہlisa mann

،تصویر کا کیپشنگابی کی ماں لیزا کھانا بانٹنے پر کبھی ناراض نہیں ہوئیں

وہ کہتی ہیں ’مجھے خوشی ہے کہ میرے بچے جانوروں کو پسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔‘

سنہ 2013 میں گابی نے انھیں بجائے بچا کچا انھیں ڈالنے کے کوؤں کو باقاعدہ کھانا کھلانا شروع کر دیا۔ روزانہ صبح کھانے دینے کے معمول کے بعد کوؤں کی جانب سے تحائف کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

کوّے کوئی نہ کوئی نہ چکمدار چیز لے کر آتے اور اپنے کھانے کی پلیٹ میں رکھ جاتے۔

ایک مرتبہ تو وہ ایک دھات کا ٹکڑا لائے جس پر لفظ ’بیسٹ‘ یعنی بہترین لکھا تھا۔

وہ بڑی ہوئی تو بس سٹیشن تک جاتے جاتے وہ اپنا کھانا ان کوؤں کے ساتھ بانٹنے لگی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنوہ بڑی ہوئی تو بس سٹیشن تک جاتے جاتے وہ اپنا کھانا ان کوؤں کے ساتھ بانٹنے لگی