’جنازوں میں ناچ گانا نہیں چلےگا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چین میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے دیہی علاقوں میں اپنے عزیزوں کی آخری رسومات میں نیم برہنہ ناچنے والی خواتین کو مدعو کرنے کی رسم کو ختم کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔
چین کی وزارتِ ثقافت نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وزارت نے لوگوں کو آخری رسومات میں شرکت پر اکسانے کی غرض سے غیرمقامی ڈانسروں کو مدعو کرنے کی ’غیر مہذب‘ عادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بیان میں وزارتِ ثفافت نے ایسے دو حالیہ واقعات کا حوالہ دیا ہے جہاں خواتین کو آخری رسومات میں ’فحش ڈانس‘ کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک تقریب شمالی چین کے صوبے ہیبی اور دوسری مشرقی چین میں زیاگسو میں منعقد ہوئی تھی۔
بیان میں حکام کا کہنا تھا کہ ان دونوں واقعات کے بعد ڈانس کرنے والی خواتین اور منتظمین کو سزا دی گئی تھی۔ حکام کے مطابق وزارتِ ثقافت اس غیرمہذب رسم کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پولیس کی مدد بھی حاصل کرے گی۔
یاد رہے کہ چین کے دیہاتوں میں مرنے والے کی آخری رسومات میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت معاشرے میں اس گھرانے کے لیے اعزاز کی بات سمجھی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیے لوگ نیم برہنہ خواتین کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چینی حکام اس سلسلے میں ماضی میں کئی کارروائیاں کر چکے ہیں جن میں انھیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود اس مرتبہ اس برائی کو ختم کر کے دم لیں گے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں دُور دراز سے ڈانسر خواتین کو بلانا چین میں کسی کے جدید اور ماڈرن ہونے کی علامت سمجھا جا رہا ہے اور قدیم اور اچھی روایات کی بجائے لوگ دکھاوے کے قائل ہوتے جا رہے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت دیہی چین کی اس نئی رسم سے واقف نہیں ہیں اور وہ اس پر حیرت اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے واقعی سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ اس رسم کو کیسے اخلاقی حرکت قرار دے سکتے ہیں‘ تاہم کچھ لوگ اس خبر سے مزاح کا پہلو بھی نکال رہے ہیں۔
’جنازوں میں نیم برہنہ ناچنے والی عورتیں۔ آپ نے تو میری جان ہی نکال دی! یہ کیسا رجحان ہے؟‘







