ٹاپ گیئر کے ایگزیکٹو پروڈوسر بھی شو سے علیحدہ

اینڈی وِلمین نے 2002 میں ٹاپ گیئر کو جیریمی کلارکسن کے ساتھ شروع کیا اور اسے ایک مشہورِ زمانہ شو بنا دیا
،تصویر کا کیپشناینڈی وِلمین نے 2002 میں ٹاپ گیئر کو جیریمی کلارکسن کے ساتھ شروع کیا اور اسے ایک مشہورِ زمانہ شو بنا دیا

بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ اس کے شہرۂ آفاق کار شو ٹاپ گیئر کے ایگزیکٹو پروڈیوسر اینڈی وِلمین نے بی بی سی کا یہ شو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق میزبان جیریمی کلارکسن کو گذشتہ مہینے اپنے ایک پروڈیوسر کے ساتھ ’لڑائی‘ کے بعد شو سے نکال دیا گیا تھا۔

وِلمین جو کلارکسن کے دیرنہ دوست ہیں نے اس شو کو دوبارہ سے بہتر بنا کر ایک عالمی سطح کا کمیاب شو بنانے میں مدد کی۔

انہوں نے ایک ای میل کے لیک ہونے کے بعد اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ بی بی سی چھوڑ کر جا رہے ہیں جیسا کہ ای میل میں لکھا گیا تھا۔

بی بی سی نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کہی کہ وِلمین نے یہ فیصلہ کلارکسن کے جانے کی وجہ سے کیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو پروگرام کے ایک اور شریک میزبان جیمز مے نے کہا تھا ہ وہ بی بی سی کے شو پر کلارکسن کے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔

مے جو ٹاپ گیئر پر 199 میں نمودار ہوئے تھے نے کہا کہ ’کلارکسن کے بغیر پروگرام کرنا ایک بے وقوفانہ خیال ہو گا‘۔

مے کے ایجنٹ نے ارگچہ کہا کہ میزبان اس شو میں اپنے کردار کے بارے میں بی بی سی سے بات کر رہے ہیں۔

جیریمی کلارکسن تو چلے گئے اب جیمز مے اور رچرڈ ہیمونڈ نے شو میں رہنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کرنا ہے
،تصویر کا کیپشنجیریمی کلارکسن تو چلے گئے اب جیمز مے اور رچرڈ ہیمونڈ نے شو میں رہنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کرنا ہے

کلارکسن کو 10 مارچ کو معطل کیا گیا تھا اپنے پروگرام کے ایک پروڈیوسر اوئسن ٹائمون سے ’لڑائی‘ کے بعد معطل کیا گیا تھا۔

یہ لڑائی یارک شائر کے ایک ہوٹل میں ہوئی تھی اور بتایا گیا کہ پورے دن کی فلمبندی کے بعد گرم کھانا فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

ایک بی بی سی کی تحقیق سے پتا چلا کہ ٹائمون کو اس ’لڑائی‘ کے بعد ہسپتال جانا پڑا تھا جب انہیں کلارکسن کی جانب سے جسمانی اور زبانی حملوں‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

بدھ کو کِم شیلنگ لا جو بی بی سی ٹو اور بی بی سی فور کے سربراہ ہیں نے کہا کہ ’کلارکسن بی بی سی پر واپس آئیں گے۔‘

شیلنگ لا کو اس بات کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اس شو کے لیے کلارکسن کی جگہ متبادل تلاش کریں۔