’کلارکسن کو نکالنے پر بی بی سی کے سربراہ کو دھمکی‘

بی بی سی سربراہ ٹونی ہال نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ یونہی نہیں لیا ہے بلکہ ’اس میں ایک حد پار کی گئی ہے‘ اور وہ جو کچھ ہوا اس کی حمایت نہیں کر سکتے
،تصویر کا کیپشنبی بی سی سربراہ ٹونی ہال نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ یونہی نہیں لیا ہے بلکہ ’اس میں ایک حد پار کی گئی ہے‘ اور وہ جو کچھ ہوا اس کی حمایت نہیں کر سکتے

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس بی بی سی کے ڈائرکٹر جنرل ٹونی ہال کو جان سے مارنے کی مبینہ دھمکی کی جانچ کر رہی ہے۔

لارڈ ٹونی ہال کو مبینہ طور پر ایک دھمکی آمیز پیغام ملا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پیغام انھیں اس اعلان کے بعد ملا ہے جس میں انھوں نے جیرمی کلارکسن کے کانٹریکٹ کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ کلارکسن نے ایک پروڈیوسر کو مارا پیٹا تھا۔

دا میل آن سنڈے نے بھی یہ خبر شائع کی ہے کہ لارڈ ہال اور ان کی اہلیہ کو آکسفورڈ شائر میں ان کے گھر پر 24 گھنٹے سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

بی بی سی کی ایک ترجمان نے کہا: ’ہم سکیورٹی معاملے پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

جبکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان نے کہا: ’پولیس ویسٹ منسٹر میں جان سے مارنے کی ایک دھمکی کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ اس دھمکی کے بارے میں پولیس کو 25 مارچ بدھ کے روز اطلاع دی گئی تھی۔

’ابھی جانچ کی جاری ہے اور کسی کو حراست میں نہیں لیا گيا ہے۔‘

ٹونی ہال نے معروف پروگرام ’ٹاپ گيئر‘ کے میزبان کلارکسن کے خلاف ایک اندرونی تحقیقات کے نتیجے میں ان کے کانٹریکٹ کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

ٹاپ گیئر کے تقریبا 10 لاکھ مداحوں نے ایک آن لائن اپیل میں پروگرام کے میزبان کلارکسن کو واپس لانے کی بات کہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنٹاپ گیئر کے تقریبا 10 لاکھ مداحوں نے ایک آن لائن اپیل میں پروگرام کے میزبان کلارکسن کو واپس لانے کی بات کہی ہے

تحقیقات میں یہ معلوم ہوا تھا کہ کلارکسن نے اپنے پروگرام کے ایک پروڈیوسر اوسینی ٹیمن پر نارتھ یارک شائر کے ایک ہوٹل میں زبانی اور جسمانی طور پر حملہ کیا تھا۔

دا میل نے دعویٰ کیا ہے کہ لارڈ ہال کو اسی دن ای میل میں دھمکی دی گئی اور اس اخبار میں ان کے گھر کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے جس میں ان کےگھر کے باہر سکیورٹی گارڈز تعینات دیکھے جا سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ٹیمن کے ہونٹ پھٹ گئے تھے لیکن انھوں نے کلارکسن کے خلاف باضابطہ شکایت نہیں کی تھی بلکہ خود کلارکسن نے بی بی سی کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس بارے میں بتایا تھا اور انھیں 10 مارچ کو معطل کر دیا گيا تھا۔

یہ تنازع اس لیے شروع ہوا تھا کہ ایک دن کی شوٹنگ کے بعد کوئی گرم کھانا فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

لارڈ ہال نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ یونہی نہیں لیا ہے بلکہ ’اس میں ایک حد پار کی گئی ہے‘ اور جو کچھ ہوا وہ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔

اس فیصلے کے بعد ٹاپ گیئر کے مداحوں کی جانب سے کلارکسن کو واپس لینے کے لیے زبردست حمایت نظر آئی اور تقریبا 10 لاکھ افراد نے ایک آن لائن اپیل میں انھیں واپس لانے کی بات کہی۔