سعودی عرب کی ’طاقت دکھانے کی‘ نئی پالیسی

سعودی فوجی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کی فوج ’جنگ میں جانے کے بادشاہ کے فیصلے کی 100 فیصد حمایت کرتی ہے‘
    • مصنف, کم غطاس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، ریاض

سعودی عرب کے دارالحکومت سے یمن کی سرحد تو دس گھنٹے کی مسافت یا دو گھنٹے کی فلائٹ کی دوری پر ہے لیکن یمن کے ساتھ سعودی عرب کی جنگ ریاض میں ہر کسی کے دماغ پر چھائی ہوئی ہے۔

سرکاری طور پر یہ سعودی فوج کا اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ آپریشن ہے جس میں متحدہ عرب امارات، مصر، مراکش اور دیگر دوسرے سنی ممالک شامل ہیں۔

لیکن زیادہ تر سعودی اسے اپنی جنگ سمجھتے ہیں اور یمن پر ہونے والے 70 فیصد فضائی حملے سعودی عرب ہی نے کیے ہیں۔

سرکاری طور پر بھی اس جنگ کی حدود اور مقاصد بڑے محدود ہیں: عالمی طور پر تسلیم شدہ صدر منصور عبد ربہ ہادی کے اقتدار کی واپسی اور زیدی شیعہ حوثی باغیوں کے قبضے سے اس علاقے کو چھڑوانا جس پر انھوں نے قبضہ کیا ہے۔ حوثی باغیوں کی حمایت سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے حواری کر رہے ہیں۔

سعودی لوگوں کے ساتھ یمن کے فوجی آپریشن پرگفتگو شروع کرنے سے خطے، فوجی اتحاد کی سربراہی کے نئے سعودی عرب کے کردار، اور دوسری جگہوں پر بھی ایسا ہی کرنے جیسے چیزوں کے متعلق ایک بڑی بحث شروع ہو جاتی ہے۔

ریاض میں ایک شام باؤلنگ کے کھیل کے ایک سینٹر میں مجھے ایک جوڑا ملا۔ مرد فوجی یونیفارم میں تھا اور اس نے اپنا نام صرف حماد بتایا۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ جنگ کی حمایت کرتا ہے تو اس کی آنکھوں میں روشنی آ گئی۔

’ہم جنگ میں جانے کے بادشاہ کے فیصلے کی 100 فیصد حمایت کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہمارا اگلا قدم شام کی مدد کرنا ہو گا اور صدر اسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ہو گا جو اپنے لوگوں کی اتنی ہلاکتوں اور تباہی کے ذمہ دار ہیں۔‘

سعودی عرب اپنے علاقائی مخالف ایران پر حوثیوں کو مسلح کرنے کا الزام لگاتا ہے جس کی حوثی اور ایران دونوں ہی تردید کرتے ہیں۔

سعودی عرب خصوصاً دیگر سنی محسوس کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں شیعہ ایران اپنے پاؤں پھیلا رہا ہے اور بغداد سے لے کر بیروت تک اس کا اثر بڑھ رہا ہے۔

ادھر سعودی عرب میں بھی آج کل حب الوطنی کی ایک لہر دوڑ رہی ہے اور ایک فخر بھی ہے کہ نئے بادشاہ کے آنے کے بعد سعودی عرب اپنا زور دکھانے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

کئی سعودی چپ چاپ ملک کے جنگ میں کود پڑنے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی کھلم کھلا تنقید نہیں کرنا چاہتا۔

پہلے ہی یمن میں سعودی فضائی حملے کے بعد ہونے والی شہریوں کی ہلاکتیں اور انسانی تباہی کا انتباہ لوگوں کے ذہنوں میں چھایا ہوا ہے اور انھیں اس کی بھی فکر ہے کہ یہ سعودی عرب کے خلاف جائے گا۔

ابھی تک بہت کم ہی سعودی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ریاست نے وعدہ کیا ہے کہ ’شہدا‘ کے خاندانوں کو دوسری سہولتوں کے علاوہ دس لاکھ سعودی ریال (266,000 ڈالر) بھی دیے جائیں گے۔

سعودی بمباری

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی قیادت میں کی جانے والی فضائی بمباری پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس سے شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں

ہر شام سات بجے سرکاری ٹی وی پر فوج کا ایک ترجمان ایک نیوز کانفرنس کے ذریعے جنگ کی صورتِ حال بتاتا ہے۔

اس نشریات کے آغاز میں ملی نغمے لگائے جاتے ہیں اور سکرین پر ٹینک، مارچ کرتے فوجی اور جنگی جہاز نظر آتے ہیں۔

اتحادی فوج کے ترجمان جنرل احمد اسیری امریکیوں کیا طرح اپنی بریفنگ دیتے ہیں جن میں سلائیڈوں اور فضائی حملوں کی بلیک اینڈ وائٹ فوٹیج دکھائی جاتی ہے اور وہ میڈیا کے سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں۔ عموماً یہ نیوز کانفرنس اسی طرح شروع ہوتی ہے کہ سب پلان کے مطابق ہو رہا ہے۔

جنرل اسیری نے بی بی سی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک ملک کو جنگ یا فوجی کارروائی کی طرف لے جانا ہمیشہ ایک بہت مشکل فیصلہ ہوتا ہے، یہ کسی بھی ملک کے لیے لطف کی بات نہیں ہے۔ ہمارے یمن کے متعلق کبھی بھی کوئی عزائم نہیں تھے لیکن اس صورتِ حال سے نمٹنا ضروری تھا تاکہ یمن کو ایک ناکام ریاست بننے سے روکا جا سکے۔‘

یہ جنگ سعودی عرب کا ایک ردِعمل بھی ہے کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ جوہری مذاکرات کے دوران واشنگٹن ایران کے قریب ہو گیا ہے اور امریکہ خطے سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے جس سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ یہی خیال دوسرے سنی اتحادیوں کا بھی ہے۔

جدہ میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز الصغیر کہتے ہیں کہ ’لوگوں کی اکثریت یہ محسوس کرتی ہے کہ شاہ سلیمان نے درست فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اس سے ایران کو ایک پیغام جاتا ہے کہ ہم کمزور نہیں ہیں، ہم تذبذب کا شکار نہیں ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہماری قومی سلامتی جنوب اور شمال میں ہماری سرحدوں سے آگے نکل جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر یمن کا آپریشن کامیاب رہا تو یہ نئی طاقت دکھانے والی پالیسی کا خطے کے ان دوسرے حصوں پر بھی اچھا اثر پڑے گا جہاں اس وقت ایران کا اثر و رسوخ ہے مثلاً لبنان، عراق اور بحرین وغیرہ۔

سعودی عرب کے شیعہ اکثریت والے مشرقی صوبے کے شہر قطيف میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نسیمہ السادا کہتی ہیں کہ ’جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ہوتی ہے اس کا سعودی عرب کے شیعہ افراد پر بہت اثر پڑتا ہے، کیونکہ جب عراق یا شام میں جنگ ہوتی ہے تو اسے فرقہ وارانہ جنگ اور ایران کے خلاف جنگ سمجھا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر سعودی شیعہ جنگ کے لیے حمایت کرتے ہیں تو انھیں دغا باز کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ اس پر تنقید کرتے ہیں تو انھیں غدار سمجھا جاتا ہے۔‘

’ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں، ہم عرب ہیں اور ہمارا اس زمین سے تعلق ہے اور ہمارا ایران سے کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن کوئی بھی ہماری بات نہیں سنتا، ہمیں سوشل میڈیا اور قومی میڈیا میں اس فرقہ وارانہ جنگ کا سامنا رہتا ہے۔‘