لیبیا کے بحران پر اوباما کی خلیجی ممالک سے اپیل

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی صدر براک اوباما نے خلیجی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ لیبیا کی بحرانی صورت حال کے حل کے لیے وہاں کے متحارب گروہوں پر اپنے اثرورسوخ کا استعمال کریں۔
انھوں نے کہا کہ ان خلیجی ممالک کو شمال افریقی ملک لیبیا میں جاری جنگ کو بڑھاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کی سنہ 2011 میں برطرفی کے بعد سے لیبیا بحران کا شکار ہے۔
لیبیا میں دو متحارب حکومتیں ہیں اس کے علاوہ وہاں اپنے اپنے علاقوں پر قابض کئی جنگجو گروہ ہیں۔
ادھر لیبیا کے بارے میں خلیجی ممالک منقسم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات لیبیا کے اسلام پسند گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے جبکہ قطر کو ایسے آپریشنوں پر تحفظات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اوباما کا کہنا ہے ’لیبیا میں جہاں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی ہے وہاں چند ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنوں سے کچھ نہیں ہوگا۔‘
انھوں نے میڈیا کو بتایا ’ہمیں بعض خلیجی ممالک کو اس بات کی ترغیب دینی ہوگی کہ وہ لیبیا میں موجود مختلف دھڑوں پر اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کریں کہ وہ آپس میں مزید تعاون کریں۔‘
انھوں نے کہا ’بعض معاملوں میں آپ انھیں جنگ کو کم کرنے کے بجائے انھیں ہوا دیتے ہوئے پائیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر اوباما آئندہ ماہ وائٹ ہاؤس میں خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کی کونسل کے چھ رہنماؤں کا استقبال کریں گے۔ ان ممالک میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیبیا کے عدم استحکام کے دوران انسانوں کی سمگلنگ کا نیٹ ورک فروغ حاصل کر رہا ہے اور بہت سے تارکین وطن یورپ کے لیے خطرناک سفر کی کوشش کرتے ہیں۔
صدر اوباما اطالوی وزیر اعظم میٹیو رینزی کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اٹلی کے حکام نے حالیہ دنوں میں دس ہزار سے زائد زیادہ تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔
میٹیو رینزی نے کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل لیبیا میں استحکام کی بحالی ہے۔
انھوں نے کہا ’میرے خیال میں بحیرۂ روم ایک سمندر ہے قبرستان نہیں۔ فی الحال مسئلہ لیبیا کے حالات ہیں۔‘








