لیبیا کے بحران پر اوباما کی خلیجی ممالک سے اپیل

لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کی سنہ 2011 میں برطرفی کے بعد سے لیبیا بحران کا شکار ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کی سنہ 2011 میں برطرفی کے بعد سے لیبیا بحران کا شکار ہے

امریکی صدر براک اوباما نے خلیجی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ لیبیا کی بحرانی صورت حال کے حل کے لیے وہاں کے متحارب گروہوں پر اپنے اثرورسوخ کا استعمال کریں۔

انھوں نے کہا کہ ان خلیجی ممالک کو شمال افریقی ملک لیبیا میں جاری جنگ کو بڑھاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کی سنہ 2011 میں برطرفی کے بعد سے لیبیا بحران کا شکار ہے۔

لیبیا میں دو متحارب حکومتیں ہیں اس کے علاوہ وہاں اپنے اپنے علاقوں پر قابض کئی جنگجو گروہ ہیں۔

ادھر لیبیا کے بارے میں خلیجی ممالک منقسم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات لیبیا کے اسلام پسند گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے جبکہ قطر کو ایسے آپریشنوں پر تحفظات ہیں۔

اٹلی کے حکام نے حالیہ دنوں میں 10 ہزار سے بھی زیادہ تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناٹلی کے حکام نے حالیہ دنوں میں 10 ہزار سے بھی زیادہ تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے

اوباما کا کہنا ہے ’لیبیا میں جہاں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی ہے وہاں چند ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنوں سے کچھ نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے میڈیا کو بتایا ’ہمیں بعض خلیجی ممالک کو اس بات کی ترغیب دینی ہوگی کہ وہ لیبیا میں موجود مختلف دھڑوں پر اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کریں کہ وہ آپس میں مزید تعاون کریں۔‘

انھوں نے کہا ’بعض معاملوں میں آپ انھیں جنگ کو کم کرنے کے بجائے انھیں ہوا دیتے ہوئے پائیں گے۔‘

صدر اوباما آئندہ ماہ وائٹ ہاؤس میں خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کی کونسل کے چھ رہنماؤں کا استقبال کریں گے۔ ان ممالک میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

صدر اوباما نے اطالوی وزیر اعظم کے ساتھ تارکین وطن اور لیبیا کے مسئلے پر میڈیا سے بات کی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے اطالوی وزیر اعظم کے ساتھ تارکین وطن اور لیبیا کے مسئلے پر میڈیا سے بات کی

لیبیا کے عدم استحکام کے دوران انسانوں کی سمگلنگ کا نیٹ ورک فروغ حاصل کر رہا ہے اور بہت سے تارکین وطن یورپ کے لیے خطرناک سفر کی کوشش کرتے ہیں۔

صدر اوباما اطالوی وزیر اعظم میٹیو رینزی کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

اٹلی کے حکام نے حالیہ دنوں میں دس ہزار سے زائد زیادہ تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔

میٹیو رینزی نے کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل لیبیا میں استحکام کی بحالی ہے۔

انھوں نے کہا ’میرے خیال میں بحیرۂ روم ایک سمندر ہے قبرستان نہیں۔ فی الحال مسئلہ لیبیا کے حالات ہیں۔‘