جنوبی افریقہ: برطانوی نوآباد کار کا مجسمہ ہٹانے پر جشن

سیسل روڈز نوآبادتی نظام کے بڑے حامی تھے اور ان کے مجسمے کے خلاف کافی عرصے مہم جاری تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسیسل روڈز نوآبادتی نظام کے بڑے حامی تھے اور ان کے مجسمے کے خلاف کافی عرصے مہم جاری تھی

جنوبی افریقہ کی کیپ ٹاؤن یونیورسٹی’یو سی ٹی‘ میں مظاہروں کے بعد برطانوی نوآباد کار سیسل روڈز کا مجسمہ ہٹا دیا گیا ہے۔

جب اس مجسمے کو ہٹایا گیا تو اس وقت وہاں موجود مظاہرین نے خوشی کا اظہار کیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اب اس مجسمے کو کسی محفوظ جگہ پر رکھا جائے گا۔

<link type="page"><caption> سیسل روڈز کے مجسمے کے خلاف مہم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/03/150324_cecil_statue_fz" platform="highweb"/></link>

کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے طالب علم 19ویں صدی کے برطانوی نوآبادتی دور کی اس اہم شخصیت کے 1934 سے نصب مجمسے کو ہٹانے کے لیے کافی عرصے سے مظاہرے کر رہے تھے۔

مجمسے کو ہٹائے جانے پر طالب علموں نے خوشی سے نعرے لگائے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمجمسے کو ہٹائے جانے پر طالب علموں نے خوشی سے نعرے لگائے

جنوبی افریقہ میں دیگر برطانوی نوآباد کاروں کے مجمسوں کو ہٹانے کے لیے مہم جاری ہے۔

مجمسے کو ہٹانے کے وقت جشن کا سماں تھا اور اس وقت کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے طالب علموں کےعلاوہ، اساتذہ، سیاسی جماعتوں کے کارکن اور عام شہری ’جنوبی افریقہ کے اس تاریخی موقعے‘کو دیکھنے آئے تھے۔

جس وقت مجمسے کو ستون سے اٹھایا جا رہا تھا تو وہاں موجود لوگوں نے خوشی سے نعرے لگائے۔ جب مجسمے کو ہٹا دیا گیا تو چند جذباتی طالب علم اس پر چڑھ گئے اور اسے لکڑی کی چھڑیوں سے مارنا شروع کر دیا اور چہرے پر پلاسٹک کے تھیلے چڑھا دیے۔

اس سے پہلے بھی اس مجسمے پر متعدد بار گندگی پھینکے جانے اور اس کے گرد پلاسٹک کے کالے تھیلے لپیٹنے کے واقعات پیش آ چکے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جب کرین کی مدد سے سیسل روڈز کے مجمسے کو ہٹایا گیا تو یہ جنوبی افریقہ کے ان سیاہ فام شہریوں کے لیے ایک بڑی فتح تھی جنھیں ملک سے نسلی عصیبت کے خاتمے کے 20 سال بعد بھی تعلیم کی کمی اور روزگار کے کم مواقع کا سامنا ہے۔

جنوبی افریقہ میں سیاہ فام آبادی کے غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے
،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ میں سیاہ فام آبادی کے غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے

مجمسے کو ہٹائے جانے پر وہاں موجود مظاہرین نے’ایک آبادکار، ایک گولی‘ کے نعرے لگائے۔ یہ جنوبی افریقہ میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر سیاہ فام عوام کا معیار زندگی بہتر نہیں ہوا تو ان کے غصے میں اضافہ ہو گا۔

وہاں موجود ایک طالب علم نے کہا: ’ہم نے بالآخر ایک سفید شخص کو بٹھا دیا تاکہ ہمیں سنا جائے۔‘

مجسمے کو ہٹایا جانا تمام جنوبی افریقہ کے لیے نسلی عام مساوات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا موقع ہے کیونکہ وہاں موجود مظاہرین نے کہا کہ اس وقت کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں ایسے صرف پانچ سیاہ فام پروفیسر ہیں جو جنوبی افریقہ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔

بدھ کو یونیورسٹی کی 30 رکنی کونسل نے مجسمے کو ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یونیورسٹی کی 30 رکنی کونسل نے مجسمہ ہٹانے کی منظوری دی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیونیورسٹی کی 30 رکنی کونسل نے مجسمہ ہٹانے کی منظوری دی تھی

کونسل نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے طالب علموں، اساتذہ، یونیورسٹی کے سابق طالب علموں اور عوام کی رائے سننے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔

کونسل کے بیان کے مطابق کسی یونیورسٹی کو ایسے ہی کام کرنا چاہیے اور ہمارے خیال میں ملک کے تاریخی مسائل سے نمٹنے میں یہ ایک مثال ہو گی۔

یونیورسٹی سے سیسل روڈز کا مجسمہ ہٹانے کی مہم کے دوران ملک کے دیگر علاقوں میں بھی برطانوی نوآباد کاروں کے مجسموں کے خلاف مہم میں شدت آئی اور بعض مجسموں پر حملے بھی کیے گئے۔

سیسل روڈز نوآبادتی نظام کے بڑے حامی تھے اور زمبابوے کی آزادی سے پہلے اس ملک کا انھی کے نام پر روڈیشیا تھا۔