سیسل رہوڈس کے مجسمے کے خلاف مہم

کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں استعادہ سیسل رہوڈس کے مجسمے کو ہٹانے کے لیے طالب علم مہم چلا رہے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن میں سیسل رہوڈس کے مجسمے کو ہٹانے کے لیے یونیورسٹی کے طالب علم ایک مہم چلا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن میں سیسل رہوڈس کے مجسمے کو ہٹانے کے لیے یونیورسٹی کے طالب علم ایک مہم چلا رہے ہیں۔
اس مہم کے دوران طالب علموں نے مختلف طریقے استعمال کیے ہیں تاکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو یہ مجسمہ اتارنے پر مجبور کیا جا سکے۔
،تصویر کا کیپشناس مہم کے دوران طالب علموں نے مختلف طریقے استعمال کیے ہیں تاکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو یہ مجسمہ اتارنے پر مجبور کیا جا سکے۔
طالب علم یونیورسٹی کیمپس پر روائتی طریقے سے بھی اجتجاج کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنطالب علم یونیورسٹی کیمپس پر روائتی طریقے سے بھی اجتجاج کر رہے ہیں۔
سیسل رہوڈس تاج برطانیہ کا شہری تھا اور زمبابوے کی آزادی سے پہلے کا نام رہوڈیشا اسی کے نام پر رکھا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنسیسل رہوڈس تاج برطانیہ کا شہری تھا اور زمبابوے کی آزادی سے پہلے کا نام رہوڈیشا اسی کے نام پر رکھا گیا تھا۔
1853 میں برطانیہ کے شہر بیشپ سٹرایٹفڈ میں پیدا ہونے والاسیسل رہوڈس نوآبادیاتی نظام کا ایک بہت بڑا حامی تھا۔
،تصویر کا کیپشن1853 میں برطانیہ کے شہر بیشپ سٹرایٹفڈ میں پیدا ہونے والاسیسل رہوڈس نوآبادیاتی نظام کا ایک بہت بڑا حامی تھا۔
طالب علموں نے یونیورسٹی میں مجسمے کے قریب ایک بورڈ لگا دیا ہے جس پر طلبہ اور طالبات دستخط اور اپنے تاثرات رقم کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنطالب علموں نے یونیورسٹی میں مجسمے کے قریب ایک بورڈ لگا دیا ہے جس پر طلبہ اور طالبات دستخط اور اپنے تاثرات رقم کر رہے ہیں۔
اس بورڈ پر مجسمہ ہٹانے کے حق میں ہزاروں کی تعداد میں دستخط کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس بورڈ پر مجسمہ ہٹانے کے حق میں ہزاروں کی تعداد میں دستخط کیے گئے ہیں۔
مجسمے کو طلب علموں نے کالے شاپنگ بیگوں سے لپیٹ دیا ہے اس سے قبل اس پر غلاظت بھی پھینکی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنمجسمے کو طلب علموں نے کالے شاپنگ بیگوں سے لپیٹ دیا ہے اس سے قبل اس پر غلاظت بھی پھینکی گئی تھی۔
اس مہم میں طالب علموں کو عام شہریوں کی بھی ہمدردی بھی حاصل ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اس مجسمے کو ہٹانے پر تیار نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشناس مہم میں طالب علموں کو عام شہریوں کی بھی ہمدردی بھی حاصل ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اس مجسمے کو ہٹانے پر تیار نہیں ہے۔