سینا میں شدت پسندوں کے حملے میں 17 ہلاک

سینا میں فوج

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسینا میں شدت پسندوں کے حملوں میں سینکڑوں فوجی ہلاک ہو چکے ہیں

مصر میں ذرائع کے مطابق جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں نے کم از کم 17 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو شدت پسندوں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 15 فوجی اور دو عام شہری ہلاک ہو گئے۔

اس علاقے میں مصری فوج اسلامی شدت پسند گروہ داعش سے منسلک ایک سینا صوبہ نامی شدت پسند گروہ سے برسرِ پیکار ہے۔

اس سال کے آغاز سے شمالی سینا میں، جس کی سرحد اسرائیل اور غزہ کی پٹی سے ملتی ہے، درجنوں فوجی اور عام شہری شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے میں بندوق برداروں نے خود کار رائفلوں اور راکٹوں سے ایک مربوط حملہ کیا۔

مارچ میں فوج نے کم از کم 70 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سینا صوبہ کو پہلے انصار بیت المقدس کہا جاتا تھا لیکن پھر نومبر میں اس گروہ نے داعش کے رہنما ابو بکر البغدادی کے ہاتھوں بیت کرنے کے بعد نام بدل لیا۔

اس کا دعویٰ ہے کہ سینا میں ہونے والے زیادہ تر حملوں میں اس کا ہاتھ ہے، اس میں 29 جنوری کو ہونے والا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں کم از کم 30 افراد ہلاک کر دیے گئے تھے۔

فوج کے ہاتھوں سابق مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کا 2013 میں تختہ الٹنے کے بعد سے سینا میں مقیم شدت پسندوں نے سینکڑوں فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔