’غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد میں 71 فیصد اضافہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ جیسے شدت پسند گروپوں میں شمولیت کے لیے جانے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد بڑھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 25 ہزار سے زیادہ ایسے جنگجو شدت پسند گروہوں کا ساتھ دینے کے لیے ان سے آن ملے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کم از کم 100 ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے عراق، شام، لیبیا اور پاکستان کا رخ کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رجحان عالمی سکیورٹی کے لیے فوری خطرے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی خطرہ بھی ہے۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ 2014 کے وسط سے مارچ 2015 کے دوران ایسے جنگجوؤں کی تعداد میں 71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق اور شام ایسے ’شدت پسندوں کی تربیت گاہ‘ بن چکے ہیں اور وہاں تقریباً 22 ہزار غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 6500 جنگجو افغانستان میں ہیں جبکہ یمن، لیبیا اور پاکستان میں بھی ایسے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
القاعدہ پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کی اس رپورٹ میں یہ بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کی شکست کی صورت میں یہ جنگجو دنیا کے دیگر ممالک کا رخ بھی کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیر ملکی جنگجوؤں میں سے بیشتر کا تعلق تیونس، مراکش، فرانس اور روس سے بتایا گیا ہے جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مالدیپ، فن لینڈ اور ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو سے بھی جنگجوؤں کی آمد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ تحریر کرنے والے ماہرین نے ایسے افراد کی شناخت کے لیے عالمی سطح پر خفیہ معلومات کے تبادلے میں اضافے پر زور دیا ہے۔







