ایران جوہری مذاکرات ’آخری مرحلے میں داخل‘

’ایران کے ساتھ 12 سال مذاکرات کے بعد اب ہمارے سامنے فیصلہ کن دن ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’ایران کے ساتھ 12 سال مذاکرات کے بعد اب ہمارے سامنے فیصلہ کن دن ہیں‘

جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمیئر نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات ’آخری مرحلے‘ میں داخل ہوچکے ہیں۔

امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتیں ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہیں اور ان ممالک کے وزرائے خارجہ سوئٹزرلینڈ میں جمع ہو رہے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مارچ کے آخر تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

تاہم بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ اشر کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ متنازعہ معاملات تاحال حل طلب ہیں۔

جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر سٹینمیئر نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوسان پہنچنے پر کہا کہ ’ایران کے ساتھ 12 سال مذاکرات کے بعد اب ہمارے سامنے فیصلہ کن دن ہیں۔‘

’طویل مذاکرات کا آخری مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔‘

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فبیوس کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کچھ معاملات میں پیش رفت کی ہے لیکن کچھ میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔‘

امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ جان کیری لوسان میں ایرانی وزیرخارجہ محمد جاوید سے پہلے ہی ملاقات کرچکے ہیں اور توقع ہے کہ برطانیہ، چین اور روس بھی اتوار کو خصوصی بات چیت کریں گے۔

خیال رہے کہ مذاکرات کے لیے 31 مارچ اور حتمی معاہدے کے لیے 30 جون کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ سمیت چھ چالمی طاقتیں ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسوئٹزرلینڈ میں امریکہ سمیت چھ چالمی طاقتیں ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہیں

اس سے قبل صدر حسن روحانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق انھوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ اس منفرد موقعے کو ہاتھ سے نہ جانے دیں جو خطے اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی اہمیت پر بھی بات کی تھی۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ایک ترجمان کے مطابق وزیراعظم کیمرون ایرانی صدر سے متفق ہیں کہ معاہدہ ممکن ہے تاہم وزیراعظم نے زور دیا کہ ایران کو دنیا کو یہ دیکھانے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پرامن مقصد کے لیے ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم عالمی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ وہ اسے فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔

حالیہ جوہری مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے دورانیے، معاہدے کی میعاد اور ایران اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی کس حد تک اجازت دیتا ہے جیسے معاملات شامل ہیں۔