’مذاکرات میں جوہری پروگرام پر حتمی معاہدہ ممکن ہے‘

ایران نے پابندیوں کے شکنجے کو توڑ دیا ہے: حسن روحانی

،تصویر کا ذریعہpresident.ir

،تصویر کا کیپشنایران نے پابندیوں کے شکنجے کو توڑ دیا ہے: حسن روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں پیش رفت کا مطلب ہے کہ حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر روحانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ فریقین کے درمیان ابھی کچھ اختلافات باقی ہیں لیکن ’ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہ ہو سکے۔‘

<link type="page"><caption> نوروز یا امریکہ اور ایران کا موسمِ بہار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/03/150321_iran_nuclear_deal_sq" platform="highweb"/></link>

دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات میں ’قابل ذکر‘ پیش رفت ہوئی ہے۔

امریکہ سمیت چھ چالمی طاقتیں ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہیں اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن میں فقط دس روز باقی رہ گئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ کے مطابق صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ سوئٹزر لینڈ میں جاری مذاکرات کے موجودہ دور میں ’ایسے معاملات میں اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے جن پر پہلے اختلاف رائے پایا جاتا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ اتفاق رائے ’حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘

ادھر سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات میں وقفے کے دوران جان کیری کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ابھی بڑے اختلافات‘ موجود ہیں تاہم مذاکرات میں ’خاصی پیش رفت‘ ہوئی ہے۔

جان کیری کے بقول ’دونوں فریقوں نے (نومبر کے عارضی معاہدے میں طے پانے والے) مشترکہ منصوبے کا پاس رکھا ہے اور ہم سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ’ایک ایسا جامع اور دیرپا معاہدہ طے پائے جس پر عملدرآمد کی بنیاد ایک دوسرے پر اعتماد ہو، نہ کہ سخت جانچ پڑتال۔‘

جان کیری کا مزید کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ ’بنیادی فیصلے کیے جائیں اور یہ بنیادی فیصلے ابھی ہونے چاہییں۔‘

جان کیری کے مطابق فریقین نے مشترکہ منصوبے کا پاس رکھا ہے اور سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجان کیری کے مطابق فریقین نے مشترکہ منصوبے کا پاس رکھا ہے اور سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں

وہ سنیچر کو بات چیت کے بعد لندن روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ آئندہ ہفتے مذاکرات کے دوبارہ آغاز سے قبل اپنے برطانوی، جرمن اور فرانسیسی ہم منصبین سے صلاح مشورہ کریں گے۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے پہلے امریکہ اور پھر ایران کے صدور نے جوہری معاہدے کے بارے میں پرامیدی ظاہر کی تھی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے نوروز کے موقع پر قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ عالمی طاقتیں واضح طور پر سمجھ چکی ہیں کہ جوہری پروگرام پر ایران سے بات کرنے کا واحد راستہ دھمکیوں یا پابندیوں کا نہیں بلکہ عزت و احترام ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’دنیا کے ممالک اور بڑی قوتیں سمجھ چکی ہیں کہ دھمکیاں اور پابندیاں غیر موثر ہیں اور درست طریقہ یہ ہوگا کہ ایرانی قوم کے ساتھ بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عزت کے ساتھ معاہدہ کیا جائے۔ ‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران نے پابندیوں کو ختم کر دیا ہے اور وہ اپنے عظیم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایک سال قبل نئے سال کی آمد پر ہم نے خطے میں موجود اپنے دوستوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں چھوڑا تھا۔ تاہم اپنی گفتگو میں انھوں نے خطے کے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

اس سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر براک اوباما نے’نوروز‘ کے موقع پر ایرانی حکومت اور عوام کو مبادکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس اس وقت باہمی تعلقات کی نوعیت کی تبدیلی اور مختلف مستقبل کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔