’ایران کے لیے مشکل فیصلے کرنے کا وقت آن پہنچا ہے‘

برطانوی اور امریکی وزرائے خارجہ کے مطابق اب بھی ایسے اہم معاملات ہیں جن پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبرطانوی اور امریکی وزرائے خارجہ کے مطابق اب بھی ایسے اہم معاملات ہیں جن پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے

مغربی طاقتوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ’مشکل فیصلے‘ کر لے جو اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے ضروری ہیں۔

یہ بات سنیچر کی شب لندن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہی گئی ہے۔

<link type="page"><caption> نوروز یا امریکہ اور ایران کا موسمِ بہار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/03/150321_iran_nuclear_deal_sq" platform="highweb"/></link>

یہ وزرائے خارجہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

امریکہ سمیت چھ چالمی طاقتیں ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہیں اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن میں فقط دس روز باقی رہ گئے ہیں۔

بیان میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کلیدی معاملات پر قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب بھی ایسے اہم معاملات ہیں جن پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’اب ایران کے لیے مشکل فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم ایسے حل کی تلاش کے لیے پرعزم ہیں جس کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام پرامن رہے اور یہ کہ کوئی بھی حل جامع، دیرپا اور قابلِ تصدیق ہونا چاہیے۔‘

چاروں مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسے کسی معاہدے کا حصہ نہیں بن سکتا جو یہ شرائط پوری نہ کرتا ہو۔

خیال رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے سنیچر کو ہی کہا ہے کہ ان کے ملک کے جوہری پروگرام پر<link type="page"><caption> عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں پیش رفت کا مطلب ہے کہ حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/03/150321_world_respect_iran_rouhani_hk" platform="highweb"/></link>۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر روحانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ فریقین کے درمیان ابھی کچھ اختلافات باقی ہیں لیکن ’ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہ ہو سکے۔‘

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ کے مطابق صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ سوئٹزر لینڈ میں جاری مذاکرات کے موجودہ دور میں ’ایسے معاملات میں اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے جن پر پہلے اختلاف رائے پایا جاتا تھا۔‘

جان کیری کے مطابق فریقین نے مشترکہ منصوبے کا پاس رکھا ہے اور سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجان کیری کے مطابق فریقین نے مشترکہ منصوبے کا پاس رکھا ہے اور سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں

انھوں نے کہا کہ یہ اتفاق رائے ’حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘

ادھر سوئٹزر لینڈ میں سنیچر کو مذاکرات میں وقفے کے دوران جان کیری کا کہنا تھا کہ ’امریکہ چاہتا ہے کہ ایک ایسا جامع اور دیرپا معاہدہ طے پائے جس پر عملدرآمد کی بنیاد ایک دوسرے پر اعتماد ہو، نہ کہ سخت جانچ پڑتال۔‘

جان کیری کا مزید کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ ’بنیادی فیصلے کیے جائیں اور یہ بنیادی فیصلے ابھی ہونے چاہییں۔‘

خیال رہے کہ رواں ہفتے پہلے امریکہ اور پھر ایران کے صدور نے جوہری معاہدے کے بارے میں پرامیدی ظاہر کی تھی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے جمعے کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ عالمی طاقتیں واضح طور پر سمجھ چکی ہیں کہ جوہری پروگرام پر ایران سے بات کرنے کا واحد راستہ دھمکیوں یا پابندیوں کا نہیں بلکہ عزت و احترام ہے۔

اس سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر براک اوباما نے’نوروز‘ کے موقع پر ایرانی حکومت اور عوام کو مبادکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس اس وقت باہمی تعلقات کی نوعیت کی تبدیلی اور مختلف مستقبل کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔