’جرمن ونگز‘ کا نوجوان معاون پائلٹ کون تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty
جرمنی کی پولیس نے اس گھر کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے جس میں اس جہاز کا معاون پائلٹ رہتا تھا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے فرانس کے پہاڑی سلسلے میں مسافر طیارے کو جان بوجھ کر تباہ کیا۔
آندریاز لوبٹز جرمنی کی کمپنی ’جرمن ونگز‘ کا نوجوان معاون پائلٹ تھا اور حکام کے مطابق اس نے طیارے کو جان بوجھ کر تباہ کیا۔
اس حادثے کا مقدمہ دائر کرنے والے فرانس کے برائس رابن کا کہنا ہے کہ جب طیارے کا کپتان باتھ روم گیا تو 28 سالہ معاون پائلٹ نے کاک پِٹ کے دروازے کو اندر سے بند کر دیا اور جہاز کو بلندی سے نیچے اتارتے اتارتے پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ کر دیا۔ اس جہاز پر عملے سمیت 150 افراد سوار تھے۔
تفتیش کار اس بات کا کھوج لگا رہے ہیں کہ جرمن طیارے کے معاون پائلٹ لوبٹز کون تھے، ان کا ماضی کیسا تھا اور وہ کس پس منظر میں رہتے تھے تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ منگل کے حادثے سے قبل ان کی ذہنی حالت کیسی تھی۔
آندریاز جرمنی میں مونٹاباؤر کے مغربی قصبے میں اپنے والدین کے گھر میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ گھر اب میڈیا کی دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ گھر ایسی گلی میں واقع ہے جس میں ایک طرف سے اندر جاتے اور دوسری طرف سے باہر آ جاتے ہیں۔ پولیس کے سپاہی اس گھر کے اردگرد پہرہ دے رہے ہیں تاکہ رپورٹروں اور فوٹوگرافروں کو مرکزی دروازے سے دور رکھ سکیں۔
آندریاز لوبٹز نے مونٹاباؤر کے گلائیڈر کلب کے رکن کے طور پر پہلی بار آسمانوں کا سفر اس وقت کیا جب وہ ’ٹِین ایج‘ یعنی نوجوانی میں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کلب کے چیئرمین کلاس راڈکے کے مطابق آندریاز نے سفید رنگ کے دو سیٹوں والے اے ایس کے 21 گلائیڈر میں 14 یا 15 برس کی عمر میں پہلی بارگلائیڈ کیا۔
انھیں 2008 میں گلائیڈر پائلٹ کا لائسنس حاصل کرنے کے بعد لفتھانزا میں زیرِ تربیت پائلٹ کے طور پر کمپنی کے تربیتی سکول میں رکھ لیا گیا۔ چھ سال بعد وہ لفتھانزا کی ایک ذیلی کمپنی ’جرمن ونگز‘ میں چلے گئے اور بطور معاون پائلٹ کام شروع کیا۔
منگل کے بدقسمت حادثے سے قبل وہ 630 گھنٹوں کی پرواز کر چکے تھے۔ لفتھانزا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کارسٹین سپور نے صحافیوں کو بتایا کہ ’انڈریاس کے جہاز اڑانے پر نہ کوئی پابندی تھی نہ کوئی شرائط تھیں اور وہ سو فیصد فٹ تھے۔‘
آندریاز کے گھر کے قریب بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹے سی اور خاموش ہاؤسنگ سٹیٹ میں واقع یہ گھر کسی بھی وجہ سے قابلِ ذکر نہیں ہے۔
خاکستری رنگ کی دیواروں اور ڈھلان والی چھت سے باہر کو نکلی ہوئی کھڑکی والا یہ گھر اب پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ معاون پائلٹ نے جہاز کو بظاہر جان بوجھ کر تباہ کیوں کیا۔
آندریاز کے گھر کے قریب رہنے والی ایک خاتون جو اپنے بچے کو سنبھالے ہوئے تھی کہنے لگی: ’یہ بہت خوفناک ہے۔‘ اس خاتون کو معاون پائلٹ کے گھر والوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا لیکن اب اسے یہ فکر ہے کہ مونٹاباؤر اب صرف طیارے کی تباہی کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جائے گا۔
آندریاز لوبٹز کو جاننے والوں نے انھیں ایک خاموش طبع لیکن ملنسار کردار قرار دیا جس کی کسی بات سے یہ اشارہ نہیں ملتا تھا کہ اس کے ذہن میں ایسے تباہ کن خیالات جمع ہو رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہUnknown from Twitter
گلائیڈر کلب کے چیئرمین مسٹر رادکے نے خبر ایجنسی اے پی کو بتایا کہ انھوں نے انڈریاس کو گذشتہ خزاں میں اس وقت دیکھا تھا جب وہ اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے کلب آئے تھے۔
’وہ اپنے کریئر کے بارے میں بہت پرجوش تھے۔ مجھے کوئی ایسی بات یاد نہیں آ رہی جس سے لگتا ہو کہ کچھ ٹھیک نہیں تھا۔‘
مسٹر رادکے نے استغاثے کے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ جہاز کو جان بوجھ کر گرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا ’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کوئی اس طرح کے نتائج کیسے نکال سکتا ہے۔‘
گلائیڈر کلب کے ایک پرانے رکن پیٹر ریوکر نے بھی اصرار کیا کہ جب ان کی آخری ملاقات ہوئی تو آندریاز لوبٹز بہت خوش تھے۔ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیا کہوں۔ میرے پاس کوئی توجیہ نہیں ہے۔ میں جتنا آندریاز کو جانتا ہوں اس کے مطابق تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘
اس واقعے کا مقدمہ چلانے کے ذمہ دار رابن کہتے ہیں کہ یہ شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ آندریاز لوبٹز نے دہشت گرد حملہ کیا۔
انھوں نے معاون پائلٹ کے مذہبی پس منظر پر بات کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا اس عمل کے لیے جس میں بہت سی جانیں چلی گئیں، ’خودکشی‘ کا لفظ استعمال کرنا بھی غلط ہو گا۔ ’جب آپ ایک سو سے زیادہ زندگیوں کے ذمہ دار ہوں تو پھر میں اسے خودکشی نہیں کہہ سکتا۔‘







