درسی کتب میں متنازع خاکوں کا مطالبہ

پیغمبر اسلام کے خاکے پہلی بار ڈنمارک کے جےلینڈ پوسٹن اخبار میں سنہ 2005 میں شائع ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپیغمبر اسلام کے خاکے پہلی بار ڈنمارک کے جےلینڈ پوسٹن اخبار میں سنہ 2005 میں شائع ہوئے تھے

اطلاعات کے مطابق ڈنمارک میں تعلیم کی ایک تنظیم نے پیغمبرِ اسلام کے متنازع خاکوں کو سکول کی درسی کتابوں میں شامل کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈی آر ناہیڈر ویب سائٹ کے مطابق مذہبی تعلیم کے اساتذہ کی تنظیم کا مطالبہ ہے کہ ان خاکوں کو درسی کتاب میں ’جلد از جلد شامل کیا جانا چاہیے‘۔

تنظیم کے صدر جان رائڈھل کا کہنا ہے کہ اس سے مذاہب کے درمیان رشتوں، سماجی اور سیاسی مسائل کی معلومات کے مطالعے کا موقع مل سکے گا۔

’مذہبی تعلیم میں پیغمبر اسلام کا بحران ایک اہم مسئلہ ہے اور مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ ابھی تک ان کے خاکے والی کوئی درسی کتاب نہیں ہے۔‘

ڈنمارک کی وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ابھی بچوں کو خاکوں کے بارے میں پڑھایا جانا لازمی نہیں ہے تاہم بہت سے سکول اسے تاریخ یا سماجیات کے درجوں میں پڑھاتے ہیں۔

ڈنمارک کے بعض سیاسی حلقوں میں اس مطالبے کی حمایت ہے جبکہ ڈنمارک کی دائیں بازو کی جماعت ڈینش پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ اسے مذہبی تعلیم کی کلاسز میں لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

دنیا کے تمام ملکوں میں ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندنیا کے تمام ملکوں میں ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے

دوسری جانب کنزرویٹیوز اور سوشل ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ وہ اسے لازمی قرار دیے جانے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اساتذہ کو اس بات کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ کیا پڑھانا چاہتے ہیں۔

کنزرویٹیو پارٹی کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’سکولوں میں ان خاکوں کا استعمال بہت فطری ہے۔‘

خیال رہے کہ یہ خاکے پہلی بار ڈنمارک کے جےلینڈ پوسٹن اخبار میں سنہ 2005 میں شائع ہوئے تھے اور اس پر مسلم ممالک میں احتجاج کیے گئے تھے۔ فروری میں کوپن ہیگن کے ایک کیفے میں اظہار رائے کی آزادی پر ہونے والے ایک اجلاس میں ایک شخص نےگولی چلا دی تھی جس میں ایک شخص کی موت واقع ہو گئی تھی۔

اس خاکے کو بنانے والے اصلی کارٹونسٹ لارس ولکس کا خیال ہے کہ دراصل وہ اس حملے کا نشانہ تھے۔