یوکرین سے جنگ ’بعید از قیاس‘ ہے: پوتن

،تصویر کا ذریعہKremlin.ru
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روسی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں کہا کہ ہے کہ ہمسایہ ملک یوکرین سے جنگ ’بعید از قیاس‘ ہے۔
صدر پوتن نے زور دے کر منسک میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت کی بات کی اور اسے مشرقی یوکرین کو استحکام بخشنے کا بہترین طریقہ قرار دیا۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ روس مشرقی یوکرین میں باغیوں کی امداد کر رہا ہے جس سے روس انکار کرتا ہے۔
اس سے قبل یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کے باغیوں کی گولہ باری نے انہیں اگلے محاذ سے بھاری ہتھیار ہٹانے میں رکاوٹ پیدا کی۔
صدر پوتن سے انٹرویو میں پوچھا گیا کہ مشرقی یوکرین کی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے باغیوں کی گولہ باری کیا یورکین کے خلاف جنگ کا حقیقی خطرہ ہے؟
صدر پوتن نے اس کے جواب میں کہا کہ ’اس قدر قیامت خیز صورتحال ممکن نہیں ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہو گا۔‘
صدر پوتن نے کہا کہ ’اگر منسک میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے تو مشرقی یورکین بتدریج مستحک ہو جائے گا۔‘
روسی صدر نے کہا کہ ’روس اس میں اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہے جتنی یورپ رکھتا ہے اور کوئی بھی یورپ کی دہلیز پر تنازع نہیں چاہتا خصوصاً ایک مسلح تنازع۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل 18 فروری کو روسی صدر ولادمیر پوتن نے کہا تھا کہ انھیں خدشہ تھا کہ جنگی بندی کے معاہدے کے باوجود مشرقی یوکرین میں لڑائی جاری رہے گی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ لڑائی کی شدت میں گزشتہ ہفتے ہونے والے جنگی بندی کے معاہدے کے بعد سے واضح کمی آئی ہے۔







