روس کے صدر مذاکرات کے لیے مصر پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہAP
روسی صدر ولادی میر پوتن مصر کے دو روزہ دورے پر قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔
اس دورے میں یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور اہم علاقائی سکیورٹی کے متعلق بات چیت ہوگی۔
دورے کے آغاز سے قبل انھوں نے مصر کا روس کے ’دیرینہ اور قابل اعتماد پارٹنر‘ کے طور پر ذکر کیا۔
صدر پوتن کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا حامی کہا جاتا ہے جبکہ مغربی ممالک مظاہرین کے خلاف کارروائی کے لیے مصری صدر کی تنقید کرتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق فوجی السیسی کو سنہ 2013 میں محمد مرسی کو صدارت سے ہٹائے جانے کے بعد صدر منتخب کیا گیا تھا۔ جبکہ اس مدت میں مزاحمت کے دوران پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں سابق اسلام پسند صدر کے سینکڑوں حامی مارے جا چکے ہیں۔
مسٹر پوتن پیر کو دیر سے قاہرہ پہنچے جہاں صدر السیسی نے ان کا استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے قاہرہ کے اوپرا ہاؤس میں ایک ثقافتی شو میں شرکت کی جبکہ باضابطہ گفتگو آج منگل کو ہونے والی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر کے سرکاری اخبار الاہرام کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں روسی صدر نے باہمی تعلقات کو ’فعال‘ قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ برسوں کے مقابلے سنہ 2014 میں تجارت میں 50 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پوتن نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ دونوں ممالک باہمی تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے علاقائی کرنسی کے استعمال پر بات چیت کریں گے۔
دونوں رہنما شام اور عراق میں جاری جنگ کے ساتھ اسرائیل اور فلسطین کے مسائل پر بھی بات کریں گے۔
واضح رہے کہ روسی صدر کا یہ دورہ مشرقی یوکرین میں جاری بحران کے دوران ہو رہا ہے جبکہ یورپی سفارت کار یوکرین اور روس نواز باغیوں کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔
یوکرین میں جاری شورش میں ابھی تک تقریباً ساڑھے پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
روس پر سرحد پار یوکرین کے باغیوں کو مسلح کرنے اور ان کی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے جبکہ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔







