یوکرین: محاذِ جنگ سے بھاری اسلحے کی واپسی میں ناکامی

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کی افواج اور روس نواز علیحدگی پسند باغی پیر کی ڈیڈلائن کے باوجود جنگ کے محاذ سے بھاری اسلحہ واپس لے جانے میں ناکام رہے ہیں۔
فریقین کو حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت معاہدے کے نفاذ کے دو دن کے اندر ان ہتھیاروں کو ہٹانے کے عمل کا آغاز کرنا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ہتھیار واپس نہیں لے جائے گی جب تک کہ محصور شہر دیبالستیو میں جنگ بند نہیں ہو جاتی۔
علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کا اطلاق اس علاقے پر نہیں ہوتا کیونکہ وہ شہر محاصرے میں ہے۔
انھوں نے محصور یوکرینی فوج کو وہاں سے نکلنے کے لیے ایک محفوظ راستہ دینے کی پیشکش کی ہے۔
فرانس، جرمنی اور امریکہ نے دیبالستیو میں جاری لڑائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یوکرین کی فوجی کمان کا کہنا ہے کہ روس نواز باغیوں نے اتوار کی صبح سے سو سے زیادہ حملے کیے ہیں اور زیادہ تر حملے دیبالستیو اور اس کے اطراف میں ہوئے ہیں۔
یوکرین کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ساحلی شہر میریوپول کے پاس بھی جنگ جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
باغیوں نے یوکرین کی فوج پر دونیتسک کے ہوائی اڈے پر گولی باری کا الزام لگایا ہے۔
دریں اثنا روس کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کا نفاذ عمل میں آ گیا ہے۔
ان نئی پابندیوں میں 19 ا ہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جب میں سے زیادہ تر روس نواز باغیوں کے مضبوط گڑھ دونیتسک اور لوہانسک سے تعلق رکھتے ہیں تاہم ان میں دو روسی نائب وزرا برائے دفاع اور ایک روسی گلوکار اور رکن پارلیمان آیوسف کوبزون بھی شامل ہیں۔
گذشتہ ہفتے منسک میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت بھاری اسلحے کو جنگی محاذ سے واپس لیا جانا تھا تاکہ 50 سے 140 کلومیٹر چوڑا بفر زون تیار ہو سکے۔
لیکن روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق یوکرین کے ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ ’بھاری اسلحہ واپس نہیں جائے گا کیونکہ باغی ابھی بھی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘
باغیوں کے کمانڈروں نے بھی کہا ہے کہ بھاری اسلحے کا جنگی محاذ سے ہٹانے کا کوئی جواز نہیں۔

،تصویر کا ذریعہOtar Dovgenko
باغیوں کے ’وزیر دفاع‘ ولادیمیر کونونو نے کہا: ’ہم محاذ سے اسی وقت بھارے اسلحہ ہٹائیں گے جب ہم یوکرین کی جانب سے اسی قسم کا یقینی اشارہ پائيں گے۔‘
یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے مبصرین دیبالستیو پہنچنے کی کوشش میں ہیں ہر چند کہ اتوار کو باغیوں نے انھیں وہاں جانے سے روک دیا ہے۔
جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ او ایس سی ای کو مشرقی یوکرین میں جانے کی آزادی دی جائے۔
دریں اثنا امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکہ کو ’دیبالستیو اور اس کے نواح میں حالات کے ابتر ہوتے جانے پر بہت تشویش ہے‘ اور وہ ’روس اور ان علیحدگی پسندوں سے فورا جنگ بندی کے لیے کہتا ہے جن کی روس حمایت کرتا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق دوسری جگہوں پر جنگ بندی کے معاہدے کی بہت حد تک پاسداری کی جا رہی ہے۔







