یوکرین: جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات

مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی حکومتی فوج اور روس نواز باغیوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
جمعرات کو فرانس اور جرمنی کے تعاون سے قیام امن کے لیے طے پانے والے اس معاہدے پر سنیچر کی نصف شب سے عملدرآمد شروع ہوا ہے۔
تاہم سیز فائر کے چند ہی گھنٹوں بعد فریقین نے بتایا ہے کہ دیبالستیو کے علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے سے کچھ دیر قبل ہی اپنے ملک کی افواج کو حکم دیا تھا کہ وہ لڑائی بند کر دیں۔
انہوں نے باغیوں کو محصور قصبے دیبالستیو پر حملے کرنے پر خبردار بھی کیا۔
صدر پوروشینکو نے کیئف کے فوجی ہیڈکوارٹر سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے کمانڈروں کو ’دہشت گردوں‘ کے خلاف آپریشن کے دوران لڑائی بند کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید امن کے لیے یہ آخری موقع ضائع نہ ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرینی صدر نے زور دے کر کہا کہ ’یوکرین نے ہمیشہ اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور اس بار بھی پوری کرے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشرقی یوکرین سے آنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات کے دس بجے لڑائی میں کمی آئی جس وقت یوکرین اور باغیوں نے منسک میں طے شدہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کا فیصلہ کیا۔
مشرق دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں باغی رہنماؤں نے اپنی افواج کو سینیچر کو صبح جنگ بندی کا حکم دیا تاہم دبالستیو کے قریب لڑائی اس جنگ بندی کے کافی دیر بعد جاری رہی۔
جنگ بندی کا یہ معاہدہ جمعرات کو بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند، جرمن چانسلر آنگیلا میرکل اور یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو کے درمیان طے پایا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل یوکرین میں سنیچر کی شب ہونے والی جنگ بندی سے قبل ملک کے مشرقی علاقے میں شدید لڑائی کے بعد یوکرینی صدر نے متنبہ کیا کہ جنگ بندی کے معاہدے کو زبردست خطرہ لاحق ہیں۔
صدر پیٹرو پوروشینکو نے جمعرات کو منسک میں ہونے والے امن معاہدے کے باوجود روس پر حملے میں واضح اضافے کا الزام لگایا تھا۔







