سوئٹزرلینڈ میں ایچ ایس بی سی کے دفتر پر چھاپہ

،تصویر کا ذریعہEPA
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں حکام نے مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں دنیا کے معروف بینک ایچ ایس بی سی کے دفاتر کی تلاشی لی ہے۔
پراسیکیوٹرز ایچ ایس بی سی پرائیوٹ بینک (سوسی) اور مبینہ منی لانڈرنگ میں ملوث مشتبہ نامعلوم افراد کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں۔
سوئس حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے والے مشتبہ افراد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایچ ایس بی سی کا کہنا ہے کہ وہ سوئس حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے متعدد اکاؤنٹ ہولڈرز کو ’ٹیکس چوری‘ میں مدد دینے کے الزامات عائد ہونے کے بعد ایچ ایس بی سی پر یہ چھاپے مارے گئے ہیں۔
ادھر ایچ ایس بی سی کے سوئٹزر لینڈ میں واقع پرائیوٹ بینک نے ان الزمات کے سامنے آنے کے بعد متعدد اخبارات کے پورے صحفے پر معافی نامے کے اشتہارات شائع کیے ہیں۔
ایچ ایس بی سی بینک کے چیف ایگزیکٹو فرانکو مورا نے کہا ہے کہ انھوں نے ’بینک کے معیار پر پورا نہ اترنے والے ایسے کھاتے داروں کے اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے۔‘
برطانیہ کے کسٹم حکام کو سنہ 2010 میں ایک ڈیٹا لیک گیا تھا جس میں ان 1100 افراد کی نشاندہی کی گئی تھی جنھوں نے اپنے ٹیکس ادا نہیں کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایچ ایس بی سی نے گذشتہ ہفتے تسلیم کیا تھا کہ وہ ماضی میں ہونے والی ناکامی کا ذمہ دار ہے تاہم اب اس نے اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔
خیال رہے کہ سوئٹزر لینڈ میں غیر ملکی اکاؤنٹس غیر قانونی نہیں تاہم بہت سے افراد ان کا استعمال حکام سے اپنے پیسے کو چھپانے کے لیے کرتے ہیں۔
سوئٹزر لینڈ میں ٹیکس بچانا قانونی ہے جبکہ دانستہ طور پر ٹیکس نہ ادا کرنا غیر قانونی ہے۔







