لنڈا بازار یا کروڑوں کا کاروبار؟

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, لوسی راجرز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ہر برس برطانیہ کے طول و عرض میں ہزاروں لوگ اپنے استعمال شدہ کپڑے خیرات میں دے دیتے ہیں اور اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ یہ کپڑے ان لوگوں کو دیے جائیں گے جنھیں ان کی ضرورت ہے یا ان کپڑوں کو برطانیہ کے بازاروں میں خیراتی اداروں کی دکانوں میں فروخت کر کے ان اداروں کے لیے رقم اکٹھی کی جائے گی۔
لیکن ایک نئی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ان پرانے کپڑوں کی ایک بہت بڑی تعداد دراصل سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کے کاروبار کا حصہ بن جاتی ہے اور خیرات میں دیے ہوئے کپڑے دو ارب 80 کروڑ پاؤنڈ کی ایک ایسی تجارت میں استعمال کیے جاتے ہیں جس کا دائرہ کئی ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔
ذیل میں ہم نے متروک کپڑوں کی ایک ایسی ہی کھیپ کے سفر کا جائزہ لیا ہے اور دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ خیرات میں دیے ہوئے کپڑے آخر کہاں پہنچتے ہیں۔
برطانیہ میں صارفین ہر سال دس لاکھ ٹن سے زیادہ وزن کے کپڑے پھینک دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں بڑھتی ہوئی خواہشات، تیزی سے بدلتے ہوئے فیشن اور پھر چین اور کچھ دیگر ممالک سے سستے کپڑوں کی مسلسل فراہمی کا مطلب یہ ہے کہ ہم آج کل بہت زیادہ نئے کپڑے خریدتے ہیں اور پھر انھیں جلد ہی پہننا چھوڑ دیتے ہیں۔
اور اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں خیراتی اداروں اور متروک اشیا کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے والے اداروں اور تنطیموں کی جانب سے حوصلہ افزائی کے بعد ہم متروک کپڑوں کی ایک بہت بڑی تعداد دکانوں، خیراتی اداروں کے بیگوں اور پرانے کپڑوں کے بینکوں کے ذریعے ان لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان متروک کپڑوں کو دوبارہ استعمال کر سکیں۔
<link type="page"><caption> واٹر اینڈ ریسورس ایسوسی ایشن پروگرام</caption><url href="http://www.wrap.org.uk/sites/files/wrap/VoC%20FINAL%20online%202012%2007%2011.pdf" platform="highweb"/></link> نامی تنظیم (wrap یا ریپ) کا کہنا ہے کہ ہم جو کپڑے خیرات میں دے رہے ہیں ان کا تقریباً نصف ایسا ہے جو کسی نئےگھر میں پہنچتا ہے جبکہ باقی ماندہ کپڑے کوڑے کے گڑھوں میں دبا دیے جاتے ہیں یا کسی شکل میں دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے پلانٹ میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ ’ریپ‘ نامی اس تنظیم کو برطانوی حکومت اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے اور اس کا کام ملک میں کوڑے کرکٹ کی مقدار کو کم کرنا ہے۔
اس بات سے کم ہی لوگ اختلاف کریں گے کہ کوڑے میں پھیکنے کی بجائے پرانے کپڑوں کو ایک نئی زندگی دینا اچھی بات ہے۔ لیکن <link type="page"><caption> کنگز کالج کے شعبہ جغرافیہ کے لیکچرار ڈاکٹر اینڈریو بروکس</caption><url href="http://www.kcl.ac.uk/sspp/departments/geography/people/academic/brooks/index.aspx" platform="highweb"/></link> کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ جو کپڑے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں ان کی اکثریت دوسرے ممالک کو بھجوا کر ان پر منافع پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر اینڈریو بروکس نے یہ انکشافات اپنی کتاب <link type="page"><caption> کلودنگ پاورٹی</caption><url href="http://www.clothingpoverty.com/" platform="highweb"/></link> (کپڑوں کی غربت) میں کیا ہے۔
ڈاکٹر اینڈریو بروکس کے بقول برطانیہ میں ’عام لوگوں کو لنڈے کے کپڑوں کی تجارت کی ایک جھلک اپنے علاقے کی بڑی سڑک پر واقع سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی دکانوں پر دکھائی دیتی ہے۔ میرا خیال ہے عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ بھی کوئی کپڑے خیرات میں دیں گے تو یہ ایسی ہی کسی دوسری خیراتی دکان (چیئرٹی شاپ) پر فروخت کیے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’بہت سے کپڑے ایسی ہی دکانوں پر فروخت کر دیے جاتے ہیں لیکن ان دکانوں کی مانگ اُس مقدار کے مقابلے میں کم ہے جسے بیرونِ ملک برآمد کر دیا جاتا ہے۔‘
ریپ کا اندازہ ہے کہ برطانیہ میں استعمال شدہ کپڑوں کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے یعنی وہ سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی اس عالمی منڈی میں خرید و فروخت کیے جاتے ہیں جہاں ہر سال اربوں کی تعداد میں کپڑے بیچے اور خریدے جاتے ہیں۔
<link type="page"><caption> اقوام متحدہ کے تازہ ترین </caption><url href="http://comtrade.un.org/" platform="highweb"/></link>اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے بعد برطانیہ دنیا میں پرانے کپڑوں کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ برطانیہ ہر سال تقریباً چھ کروڑ ڈالر کی مالیت کے کپڑے برآمد کرتا ہے۔ جن ممالک کو یہ کپڑے برآمد کیے جاتے ہیں ان میں سرفہرست پولینڈ، پاکستان، اور یوکرین ہیں جبکہ امریکہ سے جن ممالک کو استعمال شدہ کپڑے برآمد کیے جاتے ہیں ان میں کینیڈا، چلی،گوئٹےمالا اور بھارت شامل ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ امیر ممالک سے شرٹیں، پینٹیں، جینز، اور دیگر ملبوسات ہزاروں میل دور پاکستان، پولینڈ یا گھانا کے بازاروں تک پہنچتے کیسے ہیں؟
مغربی ممالک کے متروک شدہ کپڑوں کے بین الاقوامی سفر کا آغاز اس وقت ہو جاتا ہے جب خیراتی ادارے دکانوں پر نہ فروخت ہونے والے کپڑوں کو تاجروں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔
اگرچہ برطانیہ میں <link type="page"><caption> خیراتی اداروں کی دکانوں کی تنظیم</caption><url href="http://www.charityretail.org.uk/" platform="highweb"/></link> کا دعویٰ ہے کہ انھیں دیے جانے والے کپڑوں میں سے 90 فیصد ہینگروں میں لٹکا کر دکانوں میں سجائے جاتے ہیں لیکن ڈاکٹر بروکس کا کہنا ہے کہ ان دکانوں کو دیے جانے والے کپڑوں کا صرف دس سے 30 فیصد ہی فروخت ہو پاتا ہے۔ امریکہ اور کینڈا کے اعداد و شمار اس سے مخلتف نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈاکٹر بروکس کے بقول جو کپڑے دکانوں میں فروخت نہیں ہو پاتے وہ عموماً کپڑوں کے تاجروں کے ہاتھ فروخت کر دیے جاتے ہیں جو ان کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد ان کی درجہ بندی کرتے ہیں اور پھر یہ کپڑے فروخت کے لیے مخلتف ممالک کو روانہ کر دیے جاتے ہیں۔
’یہ ایک عجیب جادوئی سا لمحہ ہوتا ہے جب تحفے میں دی ہوئی کسی چیز کو خرید و فروخت کی چیز بنا دیا جاتا ہے۔
’دیگر چیزوں کی طرح استعمال شدہ کپڑے بھی بظاہر بےقیمت سے چیز دکھائی دیتے ہیں، لیکن درجہ بندی اور بیرونِ ملک روانگی کے ذریعے یہ بے وقعت سی شے تجارتی مال کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اسے قابلِ اعتماد مصنوعات کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔‘
استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر فروخت کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی لندن کی <link type="page"><caption> ایل ایم بی</caption><url href="http://www.lmb.co.uk/" platform="highweb"/></link> بھی ہے۔ اس کمپنی کے ڈائریکٹر راس بیری اور ان کا عملہ خیراتی اداروں اور پرانے کپڑوں کے بینکوں سے کپڑے جمع کر کے ان کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ ان میں سے جو کپڑے ان کے معیار پر پورے اترتے ہیں انھیں گانٹھوں میں مشرقی یورپ اور افریقہ میں کمپنی کے مستقل گاہکوں کو بھجوا دیا جاتا ہے جہاں ان کپڑوں کو بیش قیمت مال سمجھا جاتا ہے۔
’ان ممالک کے لوگوں کو سستے کپڑے مل جاتے ہیں جو نہ صرف ان کے کام آتے ہیں اور دیرپا ہوتے ہیں بلکہ انھیں فیشن ایبل بھی بناتے ہیں۔‘
استعمال شدہ کپڑوں کا اگلا سفر کیا ہو گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ عطیے میں کیا دیتے ہیں کیونکہ مختلف قسم کے کپڑوں کی منزل بھی مخلتف ہو سکتی ہے۔ مثلاً سفید رنگ کی شرٹیں عموماً پاکستان بھیجی جاتی ہیں جہاں ان کی بہت مانگ ہے، خاص طور پر وکلا میں جنھیں ہر روز سفید قمیص پہننا پڑتی ہے۔ گرم کوٹ عموماً مشرقی یورپ جاتے ہیں جبکہ آستینوں کے بغیر شرٹوں اور نیکروں کی منزل کوئی افریقی ملک ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ہم نے اوپر دی ہوئی تصویر جیسے چھ مختلف کپڑے یا کپڑوں کے مجموعوں پر جی پی ایس ٹریکر لگا کر انھیں عطیے میں دے دیا ہے۔ ہم جی پی ایس کے ذریعے دیکھ رہے ہیں کہ یہ کپڑے کہاں پہنچتے ہیں۔ اور اگر یہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو ہم آپ کو اس کی اطلاع دیں گے۔
مغربی ممالک سے جمع کیے ہوئے کپڑوں کی ایک بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک کے بازاروں میں فروخت کی جاتی ہے۔
کیا یہ واقعی بری بات ہے؟
ڈاکٹر بروکس کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط بات ہے کیونکہ مغربی ممالک سے کپڑوں کی برآمد اور اس کے ساتھ ساتھ مشرقی ایشیائی ممالک سے نئے اور سستے کپڑوں کی وافر درآمد سے کئی ممالک میں کپڑوں کی صنعت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول خاص طور پر افریقی ممالک کی کپڑے کی صنعت اس سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے جہاں فروخت ہونے والے کپڑوں کا ایک تہائی حصہ مغربی ممالک کے استعمال شدہ کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بروکس کی تحقیق کے مطابق 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں کینیا، ملاوی، موزمبیق، نائجیریا، روانڈا، سینیگال، سوازی لینڈ، تنزانیہ، زیمبیا اور زمبابوے میں برآمد شدہ پرانے کپڑوں کی فروخت میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یوگنڈا میں آج لوگ جو کپڑے خرید رہے ہیں ان کا 81 فیصد ایسے کپڑوں پر مشتمل ہے جو مغربی ممالک کے استعمال شدہ کپڑے ہیں۔
اس حوالے سے بروکس گھانا کی مثال پیش کرتے ہیں جہاں کپڑے کی مقامی صنعتیں خاص طور پر مثاتر ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1975 اور سنہ 2000 کے درمیان گھانا کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعتوں میں روزگار میں 80 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اسی طرح نائجیریا میں کپڑا سازی کے صنعت سے منسلک دو لاکھ افراد مکمل بیروزگار ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن جہاں تک خیراتی اداروں کا تعلق ہے تو ان کے لیے مغربی ممالک کے صارفین کے وہ استعمال شدہ کپڑے جو ان ممالک میں فروخت نہیں ہوتے، آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔
چیئرٹی ریٹیل ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے: ’اس معاملے میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ خیراتی ادارے عطیے میں وصول ہونے والی ہر شے سے بھرپور اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے خیراتی منصوبوں کے لیے درکار رقم اکٹھی کی جا سکے۔‘
لیکن عام لوگوں کو یہ بات سمجھانا بہت مشکل ہے کہ عطیے میں دیے ہوئے بہت سے کپڑے انہی ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کو قیمتاً خریدنے پڑتے ہیں جہاں پر غیر سرکاری تنظیمیں اور خیراتی ادارے غریبوں کی مدد کے منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آکسفیم کی خیراتی دکانوں کے سابق علاقائی مینجر ایئن فاکنگھم اعتراف کرتے ہیں کہ کپڑے کے تاجروں اور کچھ خیراتی اداروں کے درمیان تعلق میں اتنی زیادہ شفافیت نہیں پائی جاتی جتنا خیراتی ادارے دعویٰ کرتے ہیں۔ ایئن فاکنگھم آج کل سینگال میں آکسفیم کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
کپڑوں کے تاجروں پر انحصار کو کم کرنے کی غرض سے آکسفیم سمیت چند دیگر خیراتی اداروں نے اپنے پلانٹ لگا لیے ہیں جہاں وہ متروک کپڑوں کو ری سائیکل کر کے قابلِ استعمال مواد میں تبدیل کر لیتے ہیں۔
ایئن فاکنگھم کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کو تاجروں کو خیراتی کپڑوں کے معاملے سے نکالنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی ہے۔
ہر سال برطانیہ میں آکسفیم کو 11 ہزار ٹن کپڑے خیرات میں ملتے ہیں جن میں سے تین ہزار ٹن (27 فیصد) ادارے کی اپنی دکانوں (چیئرٹی شاپس) پر فروخت ہو جاتے ہیں۔ بقیہ آٹھ ہزار ٹن میں سے ایک ہزار ٹن کو تلف کر دیا جاتا ہے اور 5,600 ٹن (یعنی کُل کپڑوں کا نصف) مشرقی یورپ، مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ کے ممالک کو بھجواد دیا جاتا ہے۔
ایئن فاکنگھم کہتے ہیں کہ ہماری پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم تمام کپڑے اپنی چیئرٹی شاپس پر ہی فروخت کریں۔ اس سے نہ صرف ہمیں بہت منافع ہوتا ہے بلکہ ہم علاقے کے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنا لیتے ہیں اور یہ لوگ ہمیں زیادہ بہتر اشیا عطیہ کرتے ہیں۔
تاہم ایئن فاکنگھم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سب کرنے کے باوجود بھی خیراتی اداروں کے پاس ہمیشہ کپڑے بچ جاتے ہیں جنھیں دیگر ممالک کو فروخت کر کے رقم اکٹھی کی جاتی ہے۔
’میرا خیال ہے بہت سی خواتین کو یہ جان کر خوشی ہوتی ہو گی کہ ان کی دی ہوئی انگیا سینیگال میں کوئی عورت استعمال کر رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ خواتین یہی کہیں گی کہ ان کی دی ہوئی چیز کا اچھا استعمال ہو رہا ہے۔‘
اس کے علاوہ عطیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے آکسفیم نےسینیگال میں ایک معاشرتی تنظیم بھی قائم کی ہے جس کا مقصد ملک میں کپڑے درآمد کرنے والوں کے لیے اس کام کو زیادہ مفید بنانا ہے۔
ایسے ہی فلاحی مرکز کے حوالے سے ایئن فاکنگھم کا کہنا تھا کہ ’ہماری پوری کوشش یہی ہے کہ سینیگال میں زیادہ سے زیادہ غریب لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے اور انھیں بھی درآمدات سے حاصل ہونے والے منافعے میں زیادہ سے زیادہ حصہ دلوایا جائے۔ اور یوں سینیگال میں کمایا ہوا پیسہ سینیگال کے غریبوں کی بہبود کے لیے خرچ کیا جائے۔‘
لیکن ڈاکٹر بروکس کہتے ہیں کہ اگرچہ آکسفیم کا طریقہ کار کپڑوں کے کاروبار کو درست کرنے کی جانب ایک ’اچھا عملی قدم‘ ہے تاہم یہ مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ان کے بقول یہ ’اتنے چھوٹے پیمانے پر کیا جا رہا ہے کہ جس سے کاروباری دنیا اور اس کے نظام کا مقابلہ نہیں ہو سکتا اور اس سے عام لوگوں کو غربت سے نکلنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جہاں تک راس بیری اور ان کی ری سائیکلنگ کمپنی کا تعلق ہے تو ان کا یہی کہنا ہے کہ کوڑا کرکٹ کے گڑھوں میں پھینکنے کی بجائے پرانے کپڑوں کی جانچ پڑتال اور درجہ بندی کر کے انھیں برآمد کرنا کہیں بہتر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تجارت سے تمام لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
’اگر ہم یہ کپڑے خریدتے ہیں تو مقامی خیراتی ادارے کو پیسے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنی کپمنی میں کئی افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور انھیں تنخواہیں بھی دیتے ہیں۔ ہم خریدے ہوئے کپڑے دوسرے تاجروں کو فرخت کرتے ہیں جن کے ہاں کئی لوگ ملازم ہوتے ہیں۔
’اس کے علاوہ ان ملکوں کی حکومتوں کو بھی درآمدی ٹیکس کی شکل میں فائدہ پہنچتا ہے اور مقامی تاجروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، جن میں بڑی تعداد خواتین تاجروں کی ہوتی ہے۔‘
راس بیری اس خیال سے بھی اتفاق نہیں کرتے کہ ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ مغربی دنیا کی اترن پہنیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں بہت سے لوگ لنڈے کے کپڑوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ مشرقی ایشیائی ممالک کے بنے ہوئے نئے ملبوسات کا معیار ہمارے بھیجے ہوئے کپڑوں سے خراب ہوتا ہے۔
تاہم راس بیری یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خیراتی اداروں کو یہ بات کُھل کے بتانی چاہیے کہ جو کپڑے انھیں دیے جاتے ہیں وہ ان کا کیا کرتے ہیں۔
’میرا خیال ہے کہ خیراتی اداروں کو یہ کہانی سنانا اچھا لگتا ہے کہ انھیں جو کچھ عطیے میں ملتا ہے وہ ان کی چیئرٹی شاپس پر فروخت ہو جاتا ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ برطانیہ میں زیادہ تر لوگوں کو سستے کپڑے خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘
راس بیری کہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ حقیقت جان کر خیراتی اداروں کو کپڑے دینا بند نہیں کر دینا چاہیے کہ ان کے دیے ہوئے کپڑے دوسرے ملکوں کو برآمد کر دیے جاتے ہیں، تاہم بیری اس وقت کو خوش آمدید کہیں گے جب لنڈے کے کپڑوں کے کاروبار کے بارے میں تمام حقائق لوگوں کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بتائے جائیں گے۔
’لوگ سچ جاننے کو ہی ترجیح دیں گے۔ ہم لوگوں کو ایک چھوٹی کہانی کیوں سناتے رہیں؟‘
اس کہانی کو شارلیٹ تھورٹن، جیمز آفر اور ایڈن فیوسٹر نے ڈیزائن کیا۔







