’شام کو دولت اسلامیہ کے خلاف حملوں کی خبر دی جاتی ہے‘

بشار الاسد نے دولت اسلامیہ کو تباہ برباد کرنے کے لیے وجود میں آنے والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہv

،تصویر کا کیپشنبشار الاسد نے دولت اسلامیہ کو تباہ برباد کرنے کے لیے وجود میں آنے والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ امریکی سربراہی میں جہادی گروپ دولت اسلامیہ کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں ان کی حکومت کو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

تاہم انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے شام میں جب سے فضائی حملے ہوئے ہیں، شام کو اتحادیوں کی جانب سے اب تک کوئی براہِ راست تعاون نہیں ملا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ ’معلومات‘ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل تیسرے فریق عراق سے حاصل ہو رہی ہیں۔

انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ شام کی فوج باغیوں کے قبضے والے علاقے میں بیرل بم برسا رہی ہے جس میں ہزاروں شہری مارے گئے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر جیرمی بوون سے دمشق میں بات چیت کے دوران ان الزامات کو ’بچگانہ‘ کہہ کر مسترد کر دیا۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے پاس بم ہیں، میزائل، گولیاں ہیں۔۔۔ لیکن کوئی بیرل بم نہیں ہے۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان کی تردید انتہائی متنازع ہے کیونکہ بیرل بمباری میں شہریوں کی ہلاکت واضح ہے اور وہ دستاویزی شکل میں موجود ہے۔

بشار الاسد نے بیرل بمباری سے انکار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبشار الاسد نے بیرل بمباری سے انکار کیا ہے

دوسری جانب امریکی قیادت میں لڑنے والے بہت سے اتحادی ممالک نے بشارالاسد کے ساتھ کسی قسم کے تعاون سے انکار کیا ہے کیونکہ وہ خانہ جنگی کی ابتدا سے انھیں حکومت سے دست بردار ہونے کے لیے کہتے رہے ہیں۔

لیکن گذشتہ سال دولت اسلامیہ کے عراق اور شام کے بڑے حصے پر قبضے اور خلافت کا اعلان کرنے کے بعد بہت سے ممالک کو اپنے موقف پر از سر نو غور کرنے اور شام کے رہنما کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کی تحریک ملی ہے۔

اس کے باوجود بشار الاسد نے دولت اسلامیہ کو ’تباہ و برباد‘ کرنے کے لیے وجود میں آنے والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کو مسترد کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’نہیں، ہم قطعی طور پر اس میں شامل نہیں ہو سکتے اور نہ ہونا چاہتے ہیں اور اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ہم اس اتحاد کا حصہ نہیں ہو سکتے جو دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔‘

انھوں نے اس کی تفصیل نہیں دی لیکن وہ جہادی جنگجوؤں اور سیاسی حزب اختلاف کے اراکین دونوں کو ’دہشت گرد‘ تصور کرتے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں کئی ممالک فضائی حملے کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں کئی ممالک فضائی حملے کر رہے ہیں

تاہم انھوں نے کہا کہ وہ دولت اسلامیہ کے خلاف دوسرے ممالک کو تعاون دینے کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ امریکی اہلکاروں سے بات نہیں کریں گے کیونکہ ان کے مطابق ’وہ کسی سے بات نہیں کرتے جب تک وہ ان کی کٹھ پتلی نہ ہوں۔‘ ان کا اشارہ مغربی اور عرب ممالک نواز حزب اختلاف کے رہنماؤں کی جانب تھا۔

انھوں نے مزید کہا: ’اور وہ بین الاقوامی قوانین کو آسانی سے کچل دیتے ہیں جو کہ ہمارے لیے خودمختاری کا معاملہ ہیں، اس لیے وہ ہم سے بات نہیں کرتے اور ہم ان سے بات نہیں کرتے۔‘

بہرحال انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ انھیں بالواسطہ شام سے گزرنے والے امریکی اور عرب امریکی طیاروں کی خبر ملتی رہتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’کبھی کبھی وہ معلومات دیتے ہیں، عام سی معلومات جو کہ تکنیکی قسم کی نہیں ہوتیں۔ کوئي بات چیت نہیں ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ معلومات کا تبادلہ ہے لیکن بات چیت نہیں ہے۔‘

شام میں بیرل بمباری میں بہت سے شہریوں کی ہلاکت کے شواہد ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشام میں بیرل بمباری میں بہت سے شہریوں کی ہلاکت کے شواہد ہیں

انھوں نے امریکہ کے ذریعے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے ’اعتدال پسندوں‘ کو مسلح کیے جانے کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ وہاں کوئی اعتدال پسند نہیں ہے، سب کے سب ’انتہا پسند‘ ہیں، چاہے وہ دولت اسلامیہ ہو یا پھر القاعدہ کی حمایت والا النصرۃ فرنٹ۔

بیرل بمباری کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’میں فوج کے بارے میں جانتا ہوں۔ وہ گولیوں، میزائلوں اور بموں کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن میں نے بیرل بم استعمال کرنے کے بارے میں نہیں سنا۔‘

انھوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں میں باغیوں کے کنٹرول کے بعد وہاں سے پناہ گزین ہمارے علاقوں میں آ گئے ہیں۔ اس لیے ہم جن علاقوں کا گھیراؤ کرتے ہیں وہاں صرف عسکریت پسند ہی ہوتے ہیں۔‘