اردن: فضائی حملوں میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانے ’تباہ‘

اردن نے زیادہ فضائی حملے تب جاری کیے جب دولتِ اسلامیہ نے مغوی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلایا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناردن نے زیادہ فضائی حملے تب جاری کیے جب دولتِ اسلامیہ نے مغوی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلایا

اردن کا کہنا ہے کہ اس نے تین دنوں میں دولتِ اسلامیہ کے خفیہ ٹھکانوں پر 56 فضائی حملے کیے ہیں۔

فضائیہ کے سربراہ جنرل منصور الجبور کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنا مقصد پورا کیا ہے۔‘

اردن نے زیادہ فضائی حملے اس وقت شروع کیے تھے جب دولتِ اسلامیہ کی جانب سے منگل کی شام انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی ایک ویڈیو میں بظاہر دکھایا گیا تھا کہ مغوی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔

امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں 20 فیصد اردن کی جانب سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کیے گئے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن کے فضائی حملے رقہ میں کیے جا رہے ہیں جو دولت اسلامیہ کا مضبوط گڑھ بتایا جاتا ہے۔

جنرل منصور کا کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی صلاحیتوں کو تقریباً بیس فیصد نقصان پہنچا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ اردن کے فضائی حملوں میں ایک امریکی امدادی کارکن کیلا مولر کی جان گئی ہے۔ اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بدھ کی صبح ہی اردن نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں اپنے ایک پائلٹ کی ہلاکت کے بعد ایک خاتون سمیت دو مجرموں کو پھانسی دے دی تھی۔ سزائے موت پانے والوں میں ساجدہ الرشاوی شامل ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ دولت اسلامیہ نے کیا تھا۔

ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے طیاروں نے بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک عراق میں نو اور شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

جوائنٹ ٹاسک فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں میں شامی شہر کوبانی کے نواحی علاقے کے علاوہ فلوجہ، کرکوک اور موصل سمیت سات عراقی شہروں پر حملے کیے گئے ہیں۔