اردن: ’دولتِ اسلامیہ کو سخت جواب دیا جائے گا‘

معاذ الکساسبہ کی ہلاکت کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ امریکہ کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمعاذ الکساسبہ کی ہلاکت کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ امریکہ کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے

اردن کے بادشاہ عبداللہ نے عوام سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائلٹ معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

بدھ ہی کو اردن نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں اپنے ایک پائلٹ کی ہلاکت کے بعد ایک خاتون سمیت دو مجرموں کو پھانسی دے دی ہے۔

پائلٹ کی ہلاکت کے بعد بادشاہ عبداللہ امریکہ کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام کے اجلاس کے دوران دولتِ اسلامیہ کے خلاف سخت جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔

بادشاہ عبداللہ کی وطن واپسی پر ہزاروں افراد نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سکیورٹی حکام کے اجلاس کی صدارت کے بعد بادشاہ عبداللہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’شہید پائلٹ معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ہمارے پیارے بیٹے کے ساتھ جو ہوا اس کے بعد اردن اور اس کی فوج سخت جواب دے گی۔‘

اردن کی حکومت کے ایک ترجمان محمد الممانی نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کو نقصان پہنچانے، اس کی صلاحیت کم کرنے اور آحر کار اس کو ختم کرنے کے حوالے سے امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کو جامع کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’برائی کو شکست دینی چاہیے اور اردن اس شدت پسند تنظیم کے خلاف جنگ میں پہلے سے زیادہ پرعزم ہے۔‘

لیفٹیننٹ معاذ الکسابسہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں دولتِ اسلامیہ نے حراست میں لے لیا تھا
،تصویر کا کیپشنلیفٹیننٹ معاذ الکسابسہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں دولتِ اسلامیہ نے حراست میں لے لیا تھا

ہلاک کیے جانے والے پائلٹ کے والد صفی الکساسبہ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مجرموں کو پھانسی دینے سے زیادہ اقدامات کرے۔

انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں چاہتا ہوں کہ دولتِ اسلامیہ کا مکمل صفایا کر دیا جائے۔‘

بدھ کی صبح اردن نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں اپنے ایک پائلٹ کی ہلاکت کے بعد ایک خاتون سمیت دو مجرموں کو پھانسی دے دی تھی۔ سزائے موت پانے والوں میں ساجدہ الرشاوی شامل ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ دولت اسلامیہ نے کیا تھا۔

اس سے پہلے اردن نے اپنے مغوی پائلٹ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ کو ایک ماہ پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

سرکاری طور پر پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق سے پہلے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے آن لائن شائع کی جانے والی ایک ویڈیو میں بظاہر دکھایا گیا کہ اردن کے مغوی پائلٹ کو ’زندہ جلا دیا گیا۔‘

یہ ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر دولتِ اسلامیہ سے وابستہ ایک اکاؤنٹ پر جاری کی گئی۔

26 منٹ دورانیے کی اس ویڈیو کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوئی تاہم ویڈیو میں ایک لوہے کے پنجرے کو شعلوں میں لپٹا دیکھا جا سکتا ہے جس کے اندر نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ایک شخص موجود ہے۔

پائلٹ کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد دارالحکومت کے مضافات میں اس جگہ پہنچ گئی جہاں پائلٹ کے اہلخانہ نے کیمپ لگا رکھا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپائلٹ کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد دارالحکومت کے مضافات میں اس جگہ پہنچ گئی جہاں پائلٹ کے اہلخانہ نے کیمپ لگا رکھا تھا

لیفٹیننٹ معاذ الکساسبہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں اس وقت دولتِ اسلامیہ نے حراست میں لے لیا تھا جب وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں جاری فضائی کارروائی میں شامل تھے۔ اس دوران ان کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا تھا، تاہم وہ اس حادثے میں بچ گئے تھے۔

اردن نے اپنے مغوی پائلٹ کی رہائی کے لیے ایک عراقی حملہ آور خاتون ساجدہ الرشاوی کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی مگر اس پر اردن نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس کے پائلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے اور اس کو قیدی خاتون کے بدلے میں رہا کیا جائے۔