اردن پائلٹ کی رہائی کے بدلے داعش کا مطالبہ ماننے پر رضامند

،تصویر کا ذریعہAP
اردن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پائلٹ کے بدلے جو داعش کے جنگجوؤں کے قبضے میں ہے سزائے موت پانے والی عراقی خاتون کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ پیشکش اس وقت کی گئی ہے جب پائلٹ معاذ الكساسبہ اور یرغمال بنائے جانے والے جاپانی کینجی گوٹو کو قتل کرنے کی چوبیس گھنٹے کی داعش کی ڈیڈلائن ختم ہونے والی ہے۔
یہ الٹی میٹم منگل کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیا گیا تھا۔ اس کے کچھ دن پہلے داعش نے کہا تھا کہ اس نے یرغمال بنائے گئے دو میں سے ایک جاپانی ہارونا یوکاوا کو قتل کر دیا ہے۔ انھوں نے اس کی رہائی کے بدلے 200 ملین ڈالر مانگے تھے۔
ساجدہ الریشاوی القاعدہ کی جنگجو ہیں جنھیں اردن میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ انھیں 2005 میں ایک حملے کا مجرم پایا گیا تھا جس میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اردن کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے کہا کہ ’اردن قیدی ساجدہ الریشاوی کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے اگر اردن کے پائلٹ معاذ الكساسبہ کو رہا کر دیا جائے اور ان کی جان بخش دی جائے۔
انھون نے کینجی گوٹو کا نام نہیں لیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جاپان کے وزیرِ اعظم شنزو آبے نے داعش کی ویڈیو کی نئی دھمکی کو ’قابلِ نفرت‘ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاپان اردن کے ساتھ مل کر یرغمالیوں کی رہائی کی کوششیں کر رہا ہے۔
منگل کو سامنے آنے والی ویڈیو میں گوٹو کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ’ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف 24 گھنٹے بچے ہیں‘ اور اردن کے یرغمال بنائے جانے والے معاذ الكساسبہ کے پاس اس سے بھی کم اگر اردن ساجدہ الرشاوی کو رہا نہیں کر دیتا۔‘ اس ویڈیو میں تاوان کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
47 سالہ کینجی گوٹو دستاویزی فلمیں بنانے والے آزاد صحافی ہیں جو اکتوبر میں شام گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اور جاپانی شہری ہارونا یوکاوا کی رہائی کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔
اس سے پہلے ایک ویڈیو میں بظاہر انھیں یوکاوا کی لاش کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
گوٹو کی والدہ نے جاپان کے وزیرِ اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی مدد کریں۔
انھوں نے کہا ’مہربانی کر کے اسے بچا لیں۔ کینجی کے پاس بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کہتے ہیں کہ اردن کے حکام اس وقت مشکل میں ہیں۔ انھیں 24 گھنٹوں کے اندر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انھوں نے پائلٹ کو چھڑانے کے لیے القاعدہ کی جنگجو کو چھوڑنا ہے کہ نہیں۔ داعش چاہتی ہے کہ موت کی سزا پانے والی القاعدہ کی خاتون کو رہا کر دیا جائے۔ جبکہ انھیں چھوڑنے کا مطلب دہشت گردی کے آگے جھکنا بھی ہو گا۔
نامہ نگار کے مطابق اسی دوران بہت سے اردن کے باشندے امریکی سربراہی میں ہونے والے اتحاد کے ہاتھوں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی حمایت نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا پکڑا گیا پائلٹ زندہ گھر واپس آئے اور اردن داعش کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لے۔
منگل کی رات اردن کے پائلٹ کے کئی سو رشتہ دار اور حمایتیوں نے عمان میں وزیرِ اعظم کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ داعش کے مطالبات مان لیں۔







