’امریکی مغوی خاتون کی ہلاکت کے شواہد نہیں ملے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ نے کہا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جن سے دولتِ اسلامیہ کے اس دعوے کی تصدیق کی جا سکے کہ شام میں اردن کے فضائی حملے میں مغوی امریکی خاتون ہلاک ہو گئی ہے۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں اردن کے فضائی حملے کے دوران مغوی امریکی خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔
دولتِ اسلامیہ کی جانب سے آن لائن جاری کیے جانے والے ایک بیان میں اس خاتون کا نام كايلا جین مِلر بتایا گیا ہے۔
شدت پسند گروپ نے شام کے علاقے الرقہ میں تباہ ہونے والی ایک عمارت کی تصویر جاری کی ہے اور ہلاکت کے بارے میں مزید کوئی شواہد فراہم نہیں کیے ہیں۔الرقہ دولتِ اسلامیہ کا مضبوط گڑھ ہے اور اسے تنظیم کا خودساختہ دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔
امریکی صدر کی قومی سلامتی کونسل کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ’امریکہ کو ان اطلاعات پر شدید تشویش ہے تاہم حکام کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر دولتِ اسلامیہ کی رپورٹ کی تصدیق کی جا سکے۔‘
دولتِ اسلامیہ کے بیان کے مطابق كايلا جین مولر کو اس عمارت میں رکھا گیا تھا جہاں پر اردن کے طیاروں نے بمباری کی تھی تاہم تنظیم نے لاش کی تصویر جاری نہیں کی۔
اگر كايلا جین ملر کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ چوتھی امریکی شہری ہوں گی جو دولتِ اسلامیہ کی تحویل کے دوران ہلاک ہو گئیں۔
26 سالہ كايلا نے ایریزونا یونیورسٹی سے گریجویشین کی تھی اور وہ سال 2012 میں ترکی اور شام کی سرحد پر شامی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے گئی تھیں۔ انھیں شامی شہر حلب سے اغوا کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اردن کے وزیر خارجہ ناصر جودہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کا دعویٰ ایک پرانا اور بیمار حربہ ہے جو صدیوں سے دہشت گرد اور جابر استعمال کر رہے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ یرغمالی اور انسانی ڈھال بنائے جانے والے افراد فضائی حملوں میں مارے جاتے ہیں۔
جمعے کو اردن کے دارالحکومت عمان میں ہزاروں افراد نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکومتی کارروائیوں کے حق میں جلوس نکلا۔ اس جلوس میں اردن کی ملکہ رانیا بھی شامل تھیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ معاذ الکساسبہ کی ہلاکت کے بعد اردن دنیا کو اس برائی سے چھٹکارہ دلانے کے بارے میں پرعزم ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اردن کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کو الرقہ سمیت شام کے دیگر علاقوں میں دولت، اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی تھی۔
اردن نے اپنے مغوی پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق ہونے کے بعد بدھ کو شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔
جمعرات کو اردن کے وزیرِ خارجہ ناصر جودہ نے کہا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف اردنی فضائیہ کے حملے تو اردن کے مغوی پائلٹ کے’انتقام کا صرف آغاز ہیں۔‘
اس سے پہلے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے منگل کی شام انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی ایک ویڈیو میں بظاہر دکھایا گیا تھا کہ مغوی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلایا گیا۔
معاذ الکساسبہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے سے اس وقت پکڑا گیا تھا جب ان کا جہاز دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
اردن کے بادشاہ عبداللہ نے اپنے عوام سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔







