دمشق کے اندر اور مضافات میں جھڑپیں، 40 افراد ہلاک

باغیوں نے دمشق کے وسطی علاقے میں کئی مارٹر گولے داغے

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنباغیوں نے دمشق کے وسطی علاقے میں کئی مارٹر گولے داغے

شام کے دارالحکومت دمشق کے اندر اور مضافات میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں حقوق انسانی پر نظر رکھنے والی تنظیم کے مطابق صوبہ دمشق میں شامی سکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں میں چار بچوں سمیت 35 افراد ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے مارٹر حملوں میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے۔

باغیوں نے دارالحکومت کے قریب واقع شہر دوما میں سرکاری فوج کے حملوں کے بعد بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کو حکومت کے خلاف کارروائیوں میں سرگرم جہادی گروپ جیش السلام نے کہا تھا کہ ان کی توجہ اب دمشق کے فوجی علاقے پر ہے۔

دارالحکومت پر حالیہ حملے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں یہ گروپ ہی ملوث ہے۔

اسلامی نظریے کی بنیاد پر شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے اس گروپ کو اطلاعات کے مطابق ماضی میں سعودی عرب سے امداد ملتی تھی۔اس گروپ نے دارالحکومت پر رواں ماہ کے دوران متعدد حملے کیے ہیں اور ان میں اب تک سال افراد مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب شام کی فضائیہ نے دمشق سے دس کلومیٹر دور شمال مشرقی علاقے گوؤٹا میں حملے کیے ہیں۔

شام میں حقوق انسانی پر نظر رکھنے والے گروپ کے مطابق ان حملوں میں درجنوں افراد زحمی ہوئے ہیں۔

دمشق کے مضافات میں حکومتی سکیورٹی فورسز باغیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندمشق کے مضافات میں حکومتی سکیورٹی فورسز باغیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں

اس سے پہلے باغیوں نے دمشق کے مرکزی علاقے میں مارٹر گولے پھینکے تھے۔ اس کے بعد شہر میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے اور ایمبولینس کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

زیادہ تر مارٹر گولے اس علاقے میں گرے جہاں پر شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کا دفتر اور دمشق یونیورسٹی واقع ہے۔ ان حملوں کے بعد دونوں کو بند کر دیا گیا۔

ایک مقامی سکول کے سربراہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے گولہ باری کے بعد فوجی اہلکاروں کو لوگوں کو بم حملے سے بچانے کی پناہ گاہوں میں پہنچاتے ہوئے دیکھا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق تین میزائل قدیم شہر میں اومیہ مسجد کے قریب گرے۔

شام میں مارچ 2011 سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک میں اقوام متحدہ کے مطابق دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں جاری اس تنازعے کے دوران کئی شدت پسند جہادی گروپ ابھرے ہیں۔ ان میں جیش السلام، دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک النصرہ گروپ شامل ہیں۔