یوکرین: بحران کے حل کے لیے چار فریقی مذاکرات

،تصویر کا ذریعہAP
جرمنی کا کہنا ہے کہ روس، یوکرین، جرمنی اور فرانس کے رہنما بدھ کو یوکرین میں قیامِ امن کے لیے مشرقی یوکرین میں ملاقات کریں گے۔
ملک میں جاری جنگ کے مسئلے پر چاروں ممالک کے رہنماؤں نے اتوار کو ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اپریل سنہ 2013 سے یوکرین اور روس نواز باغیوں کے درمیان لڑائی میں 5000 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
مغربی ممالک نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے روس نواز باغیوں کو یوکرین کی فوج کے خلاف لڑنے کی لیے ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ روس اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔
جرمن چانسلر آنگیلا مرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا اس سے قبل کہنا ہے تھا کہ انھوں نے ایک معاہدہ پیش کیا ہے جو یوکرین میں قیامِ امن کا ’آخری موقع ہو سکتا ہے۔‘
چانسلر انگلیلا مرکل نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ منصوبہ کامیاب ہوگا یا نہیں، تاہم ’یہ اس قابل ضرور ہے کہ اسے آزمایا جائے۔‘
صدر اولاند نے کہا کہ اس منصوبے میں موجودہ محاذِ جنگ کے گرد 50 تا 70 کلومیٹر چوڑا غیرفوجی علاقہ شامل ہو گا۔
دونوں رہنماؤں کی کوشش ہے کہ یوکرین میں حکومت اور روس نواز باغیوں کے درمیان جنگ تھم جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
منصوبے کی بہت کم تفصیلات سامنے آئی ہیں، تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ ستمبر میں بیلاروس کے شہر منسک میں ہونے والے جنگ بندی کی معاہدے کی تجدید کی کوشش ہے۔ اس کے بعد سے باغیوں نے مزید علاقے پر قبضہ کیا ہے جس سے یوکرین اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کو تشویش لاحق ہو گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اپریل کے بعد سے اب تک 5400 افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس دوران باغیوں نے لوہانسک اور دونیتسک کے بڑے علاقے ہتھیا لیے ہیں۔
جرمنی کے شہر میونخ میں ایک بین الاقوامی سلامتی کانفرنس میں سفارتی مذاکرات ہو رہے ہیں، جن میں روسی وزیرِ خارجہ سرگی لاوروف نے کہا کہ وہ ’خلوصِ دل‘ سے امید کر رہے ہیں کہ یہ منصوبہ سود مند ثابت ہو۔
چانسلر مرکل نے کانفرنس کو بتایا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ سفارت کاری کامیاب ہو جائے گی، لیکن اس سلسلے میں کوشش کرنا لازمی تھا۔ انھوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ متاثرینِ یوکرین کا ہم پر اتنا حق بنتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
صدر اولاند نے فرانسیسی ٹی وی کو بتایا کہ مشرقی یوکرین کے علاقوں کو وسیع خودمختاری دینا پڑے گی: ’یہ لوگ حالتِ جنگ میں ہیں۔ اس کے بعد یہ مل جل کر نہیں رہ پائیں گے۔‘
امریکہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے بارے میں غور و خوض کر رہا ہے، تاہم انگیلا مرکل نے کہا کہ وہ کسی ایسی صورتِ حال کا تصور نہیں کر سکتیں جس میں ’یوکرینی فوج کو دیے جانے والے بہتر اسلحے سے صدر پوتن اتنے متاثر ہو جائیں کہ سوچنے لگیں کہ انھیں فوجی شکست ہو جائے گی۔‘
جرمن چانسلر کا یہ بیان نیٹو کے فوجی سربراہ اور امریکی فضائیہ کے جنرل فلپ بریڈلو کے اس موقف سے متصادم ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مغربی اتحادیوں کو ’فوجی حل کے امکان کو مسترد نہیں کرنا چاہیے۔‘







