یوکرین بحران کے دوران نیٹو کی تشکیلِ نو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, جانتھن مارکس
- عہدہ, بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار
بیلجیئم کے شہر برسلز میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں توقع کی جا رہی ہے کہ یوکرین میں جاری لڑائی کے پیش نظر مشرقی یورپ میں فوجی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل یینس سٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دفاعی حوالے سے یہ سب سے بڑا مشترکہ اور مربوط منصوبہ ہو گا۔
اس منصوبے کا مقصد مشرقی یورپ کے نیٹو ممالک اور بلقان کی ریاستوں کو روس کی جانب سے لاحق ممکنہ خطرے سے تحفظ دلانا ہے۔
اس فورس کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا جس سے توقع کی جا رہی ہے یہ فورس کسی بھی فوجی خطرے کی صورت میں مناسب کارروائی کر سکے گی۔
اس فورس کا اعلان اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ نیٹو کے سیاسی رہنما اور فوجی منصوبہ ساز روس کے کرائمیا پر قبضے کے بعد مشرقی یوکرین میں روس کی مداخلت کے بعد ماسکو اور مغرب کے درمیان عارضی رسہ کشی نہیں بلکہ طویل بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
امریکہ کے معروف سفارت کار اور نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل الیگزینڈر ورشبو گذشتہ ہفتے ایک تقریر میں اس بات کا صاف اعلان کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’روس کی یوکرین کے خلاف جارحیت صرف ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یورپی سکیورٹی میں گیم چینجر ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کئی سالوں سے ابھرتے ہوئے رویے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بین الاقوامی دنیا میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد اس بات کی امید کی جا رہی تھی کہ روس کے صدر ویلادی میر پوتن اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں گے۔ تاہم متعدد تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ ایسا کرنا روس کی یوکرین میں مداخلت کے داخلی اور سیاسی امور کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یوکرین میں معمولی سطح کی لڑائی معمول بن سکتی ہے، تاہم نیٹو نے اس میں کسی بھی کو شدت کو مسترد نہیں کیا، مثلاً روس کی جانب سے کرائمیا میں مغرب کی جانب راستہ کھول لینا۔
روس کی جانب سے یوکرین میں فوجیوں کی تعیناتی اور مشقیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ وہ ایک مختصر نوٹس پر ایسا کوئی بھی آپریشن شروع کر سکتا ہے۔
نیٹو کے فوجی منصوبہ سازوں کے مطابق انھیں یقین ہے کہ روس کامیابی کے ساتھ ایسا کوئی بھی آپریشن شروع کر سکتا ہے اور اس صورت میں یوکرینی فوج اس روکنے کے قابل نہیں ہے۔
یوکرین میں جاری بحران کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورتِ حال ہے اور یہی وجہ ہے کہ نیٹو کا دفاع کا مرکز اب مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
اس کا مقصد سریع الحرکت فوج کی زمینی، سمندری اور فضائی فوج کو نئے سرے سے استوار کرنا ہے۔
نیٹو کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں وزرائے خارجہ اس فورس کا اعلان کریں گے جس میں اس فورس میں حصہ لینے والوں کے نام بھی ظاہر کیے جائیں گے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ اس فورس میں پانچ ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہو گی جو اپنی اپنی یونٹوں میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
یہ یونٹیں نیٹو کے چھ ممالک ایسٹونیا، لیٹیوا، لیتھوینا، پولینڈ، رومانیہ اور بلغاریہ میں تعینات کی جائیں گی۔
ان یونٹوں کی ذمہ داری نیٹو کے لیے آنے والے سامان کو جہاں ضرورت ہو تیزی سے تعینات کرنا ہو گی، تاہم عام اوقات میں یہ یونٹیں مجموعی دفاع، منصوبہ بندی اور کثیر القومی مشقیں کریں گی۔
یہ مشقیں نیٹو کی سرگرمیوں کا مستقل حصہ بن جائیں گی۔
نیٹو کے ممالک یورپ میں بھاری ہتھیار مثلاً ٹینکوں وغیرہ کی جانب دوبارہ دیکھ رہے ہیں۔
نیٹو کہتا ہے کہ اس کی سرگرمیاں صریحاً دفاعی نوعیت کی ہیں لیکن روس کا خیال اس سے مختلف ہے۔
نیٹو جارجیا میں اپنا تربیتی مرکز کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور وہ یوکرین کی فوج میں اصلاحات کی بھی حامی ہے جس نے ماسکو میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
اگر امریکہ یا نیٹو کے اتحادیوں نے یوکرین کی فوج کی مدد کرنا چاہی تو اس سے تناؤ میں اضافہ ہو گا۔







