یوکرین باغی ’ایک لاکھ جنگجو بھرتی‘ کریں گے

،تصویر کا ذریعہGetty
یوکرین کے خلاف لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ روس نواز باغی رہنما الیکساندر زخارچنکو نے ایک لاکھ افراد بھرتی کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
علیحدگی پسند باغی اہم شہر دیبالتسوا پر قبضے کے لیے کوشاں ہیں، جبکہ باغیوں کے زیرِ قبضہ شہر دونیتسک کے مرکزی علاقوں پر توپ خانے کے حملے ہوئے ہیں۔
ہفتے اور اتوار کو محاذِ جنگ کے دونوں اطراف درجنوں شہری ہلاک ہوئے۔
زخارچنکو نے دونیتسک کی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ’لام بندی 11 دن میں شروع ہو جائےگی۔‘
ان خبروں کے بعد کہ باغی دیبالتسوا شہر کے مضافات تک پہنچ چکے ہیں، سینکڑوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ستمبر میں منسک میں ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ گذشتہ مہینے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے حملوں میں شدت اور دونیتسک ایئرپورٹ پر ان کے قبضے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔
جنوب مشرقی شہر ماریوپول پر گولہ باری کے نتیجے میں 30 شہری ہلاک ہو گئے تھے اور عالمی مبصرین کا کہنا تھا کہ فائرنگ باغی علاقوں میں سے کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP
یوکرین کی افواج پر دونیتسک اور باغیوں کے زیرِ قبضہ دیگر علاقوں پر شدید گولہ باری کرنے کا الزام ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کی کوششیں ہفتے کے روز باغیوں کے چند نمائندوں کے نہ آنے کی وجہ سے ناکام ہو گئیں۔
’ریزرو فورس‘
دونیتسک نیوز ایجنسی کے مطابق خود ساختہ دونیتسک پیپلز رپبلک کے رہنما زخارچنکو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ باغی فورسز میں بھرتی رضاکارانہ طور پر ہو گی۔
ان کا کہا تھا کہ ’یہ ایک ریزرو فورس ہو گی جو یقیناً کسی بھی حملے کا مقابلہ کر سکے گی۔‘
انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق ریزرو فورس کو ایک مہینے کی فوجی تربیت دی جائے گی اور وہ جوابی حملوں کے لیے تین ’موٹرائزڈ بریگیڈ‘ فراہم کرے گی۔
یوکرین کی حکومت نے بھی مشرق میں اپنی افواج کی تعداد بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ شہر کی حفاظت کے لیے اتوار کو ٹینک اور دیگر فوجی گاڑیاں دیبالتسوا کی جانب بڑھتی دکھائی دیں۔







