یوکرین: ماریوپول میں راکٹ حملوں میں 30 ہلاک

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ راکٹ حملوں میں روس کے حامی باغیوں نے ایک مارکیٹ اور رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ راکٹ حملوں میں روس کے حامی باغیوں نے ایک مارکیٹ اور رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔

یوکرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں ماریوپول نامی شہر پر راکٹ حملوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے ہیں۔

یوکرینی حکومت نے ان حملوں کے لیے روس نواز علیحدگی پسند باغیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ یوکرینی فوج نے داغے تھے۔

ماریوپول روس اور روس کا حصہ بننے والے کرائمیا کے علاقے کے درمیان واقع ہے۔

مشرقی یوکرین میں باغیوں کے مرکزی رہنما نے پہلے تو ماریوپول پر چڑھائی کا اعلان کیا لیکن پھر کہا کہ وہ ’شہر میں داخل نہیں ہوں گے۔‘

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ راکٹ حملوں میں روس کے حامی باغیوں نے ایک مارکیٹ اور رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔

یورپ میں تحفظ اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای کا بھی کہنا ہے کہ راکٹ باغیوں کے زیرِ اثر علاقے سے پھینکے گئے تھے۔

خودساختہ عوامی جمہوریہ دونیستک کے سربراہ الیگزینڈر ذاخارچینکو نے کہا ہے کہ ان کی افواج نے ماریوپول کے نزدیک کسی عسکری کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔

ماریوپول روس اور روس کا حصہ بننے والے کرائمیا کے علاقے کے درمیان واقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہATO

،تصویر کا کیپشنماریوپول روس اور روس کا حصہ بننے والے کرائمیا کے علاقے کے درمیان واقع ہے۔

تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ یوکرین کی جانب سے باغیوں پر راکٹ حملوں کا الزام عائد کیے جانے کے بعد انھوں نے اپنے فوجیوں کو شہر کے مشرق میں یوکرینی فوج کی پوزیشنوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

یوکرین کی سکیورٹی سروس نے ایک صوتی پیغام بھی جاری کیا ہے جس میں ان کے بقول باغی ماریوپول کے حملے کا ذکر کر رہے ہیں۔

اس پیغام کے اصل ہونے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یوکرین اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس ان باغیوں کی حمایت کر رہا ہے جن کے سربراہ الیگزینڈر ذاخارچنکو نے جمعے کو کہا تھا کہ باغی جنگ بندی کے مذاکرات کی مزید کوششیں نہیں کریں گے اور وہ کیئف کے ساتھ جنگ بندی نہیں چاہتے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی فوجیں فرنٹ لائن کو دونیتسک کے علاقے سے پیچھے دھکیل دیں گی۔ دونیتسک شہر کا کنٹرول اس وقت باغیوں کے پاس ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اپریل سے لے کر اب تک لڑائی میں 5,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔