یوکرین کا مشرقی علاقوں میں روسی فوج کے حملوں کا الزام

دونیتسک میں روس کا تیار کردہ ٹینک بغیر کسی لائسنس نمبر پلیٹ کے گشت کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندونیتسک میں روس کا تیار کردہ ٹینک بغیر کسی لائسنس نمبر پلیٹ کے گشت کرتے ہوئے

یوکرین نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مشرقی علاقوں میں اس کی فوج پر حملے کر رہا ہے۔

یوکرین کی فوج کے ترجمان اینڈری لیسنکو نے کہا ہے کہ روسی فوج کے یونٹس نے لوہانسک کے علاقے میں یوکرین کے فوجیوں پر حملے کیے ہیں۔لوہانسک کے زیادہ تر علاقے پر روس کے حامی باغیوں کا قبضہ ہے۔

ابھی تک یوکرین کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم روس انکار کرتا ہے کہ اس کے فوجی یوکرین میں موجود ہیں لیکن یہ تسلیم کرتا ہے کہ رضا کار باغیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

فوج کے ترجمان اینڈری لیسنکو نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج نے روس کی مبینہ پیش قدمی کو روک دیا ہے اور علاقے پر اس کا کنٹرول ہے لیکن صورتحال کافی سنگین ہے۔

یوکرین اس سے پہلے یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روس کے آٹھ ہزار فوجیوں کی موجودگی کا دعویٰ کر چکا ہے۔

دوسری جانب روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کیونساکوو نے روسی فوجیوں کی یوکرین میں موجودگی کو مسترد کریے ہوئے ان اطلاعات کو واہمہ قرار دیا ہے۔

مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی میں فریقین بھاری ہتھیار استعمال کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمشرقی یوکرین میں جاری لڑائی میں فریقین بھاری ہتھیار استعمال کر رہے ہیں

یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں ہونے والی لڑائی میں شدت آنے کے بعد بین الاقوامی مبصرین نے علاقے کی مجموعی سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے خراب ہونے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

یورپ میں تحفظ اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے دونیتسک کے ہوائی اڈے کے اردگرد ہونے والی لڑائی اب شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل رہی ہے۔

تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں شہری خصوصاً بچے شدید خطرات کا شکار ہیں۔

دونیتسک میں گذشتہ ہفتے سے شہر کے ہوائی اڈے پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

یوکرین کی حکومتی افواج ان سے برسرِ پیکار روس نواز باغی دونوں کا دعویٰ ہے کہ شہر کے ہوائی اڈے پر ان کا قبضہ ہے۔

یہ شہر کئی ماہ سے شدید جھڑپوں کا مرکز رہا ہے اور ہوائی اڈے کا کنٹرول شہر پر قبضے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

فریقین نے ایک دوسرے پر گذشتہ برس ستمبر میں منسک میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

مشرقی یوکرین میں نو ماہ پہلے شروع ہونے والی لڑائی میں ابھی تک 4,700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔