مشرقی یوکرین کے نوعمر سپاہی

،تصویر کا ذریعہUKRAYINA TV
مشرقی یوکرین میں جاری تنازعے کے دونوں فریق ممکنہ طور پر نوعمر سپاہی استعمال کر رہے ہیں۔
مشرقی یوکرین میں ایک 15 سالہ لڑکے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ روس نواز علیحدگی پسندوں کو ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دیتا ہے جبکہ یوکرین کے میڈیا نے ایک 17 سالہ بارودی سرنگیں بنانے والے رضاکار کی خبر نشر کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کے لیے یہ صورتِ حال تشویش کا باعث ہے جو یہ بات جاننے کے لیے ثبوت اکٹھے کر رہا ہے کہ اس تنازعے میں بچوں کو بھرتی کر کے انھیں براہِ راست لڑائی میں شریک کیا جا سکتا ہے۔
یوکرین میں رواں برس اپریل میں شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 4,300 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ دس ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یوکرین میں یونیسیف کی نمائندہ جیووانا باربریس کا کہنا ہے کہ مسلح گروپ کسی صورت 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو بھرتی نہ کریں۔
روس کے سرکاری ٹی وی نے نومبر کے اوائل میں دو کم عمر سپاہیوں کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی تھی جو باغیوں کے مضبوط گڑھ دونیتسک میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
دونوں بچوں کو آندرے کے نام سے پکارا جاتا تھا اور وہ باغیوں کے جانے پہچانے یونٹ ’دی ووسٹوک بٹالین‘کے ارکان تھے۔

،تصویر کا ذریعہRUSSIA TV
روس کے سرکاری ٹی وی نے ان بچوں کی عمر نہیں بتائی تاہم وائی ایل ای ٹی وی پر نشر ہونے والے انٹرویو میں 15 سالہ لڑکے نے اپنا نام روئس بتایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روئس نے وائی ایل ای ٹی وی کو بتایا کہ وہ بھرتی ہونے والے بچوں کو ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دیتا تھا۔
ان کا کہنا تھا: ’میں اپنے زیرِ تربیت بچوں پر باپ کی طرح نظر رکھتا تھا۔‘
یوکرین کے ایک روزنامہ سیگودنیا کے مطابق موٹرولا کے نام سے مشہور روس کے ایک نمایاں یونٹ کے لیے کام کرنے والے ایک جنگجو کا کہنا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کو تربیت دیتا تھا۔
اس نامعلوم باغی نے روزنامہ سیگودنیا کو بتایا کہ بچوں کو عام طور پر تربیتی کیمپوں میں بھیجا جاتا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی تعریف کے مطابق کم عمر سپاہی وہ فرد ہوتا ہے جس کی عمر 18 سال سے کم ہو، اسے بھرتی کیا گیا ہو یا اسے کسی بھی حیثیت سے کسی مسلح فورس یا مسلح گروپ نے استعمال کیا ہو۔
بچوں کے حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کا کنونشن 15 سال سے کم عمر کے بچوں کی بھرتی کی مخالفت کرتا ہے۔







