یوکرین بحران کے حل کے لیے امن منصوبے پر اتفاق

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے جمعے کو مشرقی یوکرین میں امن کے حوالے سے نئے منصوبے پر گفتگو کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجرمن چانسلر آنگیلا میرکل، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے جمعے کو مشرقی یوکرین میں امن کے حوالے سے نئے منصوبے پر گفتگو کی

روس، فرانس اور جرمنی نے یوکرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے ایک امن منصوبے پر اتفاق کیا ہے جو یوکرین کے صدر کو اتوار کو پیش کیا جائے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن، فرانس کے صدر فرانسوا اولاند اور جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل نے روسی دارالحکومت ماسکو میں جمعے کو اس پر تقریباً چار گھنٹے گفتگو کی۔

تینوں رہنماؤں نے اس ملاقات کو ’تعمیری قرار‘ دیا۔

تینوں رہنما اتوار کو اس نئے منصوبے کے بارے میں یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو سے فون پر گفتگو کریں گے۔

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن کی اس ملاقات میں مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے نئے امن منصوبے پر بات چیت ہوئی۔

اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں جاری جنگ میں اپریل سے اب تک تقریبا 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں جاری جنگ میں اپریل سے اب تک تقریبا 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

یہ نیا امن منصوبہ یوکرین کے دارالحکومت کئیف میں ہونے والی بات چیت میں تیار کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق نیا امن منصوبہ گذشتہ سال ستمبر میں بیلاروس کے شہر منسک میں ہونے والے جنگی بندی کے معاہدے کے احیا کی کوشش ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں جاری جنگ میں اپریل سے اب تک تقریبا ساڑھے پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

روس پر یوکرین میں باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جس سے وہ انکار کرتا ہے۔

روس نے یوکرین اور مغربی ممالک کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا ہے کہ یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں اس کی فوج باغیوں کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔

روس پر یوکرین میں باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جس سے وہ انکار کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروس پر یوکرین میں باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جس سے وہ انکار کرتا ہے

کیئف میں ہونے والی بات چیت میں شریک امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ امریکہ اس معاملے کا سفارتی حل چاہتا ہے لیکن وہ روسی جارحیت سے صرفِ نظر بھی نہیں کرے گا۔

صدر پیوتن سے ملاقات سے قبل جمعرات کو میرکل اور اولاند نے نئے امن منصوبے پر یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو سے بات چیت کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد یوکرینی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ اس بات چیت سے ’جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی ہے۔‘

جمعے کو ہونے والی ملاقات سے قبل فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ وہ قیامِ امن کے لیے جو نئی تجویز دے رہے ہیں اس میں یوکرین کی ’علاقائی سالمیت‘ کو مدِنظر رکھا گیا ہے اور یہ ایسا منصوبہ ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ سفارت کاری کا عمل ’غیرمعینہ مدت کےلیے جاری نہیں رہ سکتا۔‘