تائیوان:’طیارے کے دونوں انجنوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا‘

عملے کے ارکان نے انجن دوبارہ چلانے کی بھی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے

،تصویر کا ذریعہother

،تصویر کا کیپشنعملے کے ارکان نے انجن دوبارہ چلانے کی بھی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے

تائیوان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت تائی پے میں دریا میں گرنے والے مسافر طیارے کی تباہی کی وجہ اس کے دونوں انجن فیل ہونا بنی۔

بدھ کو تباہ ہونے والے اس طیارے پر 58 افراد سوار تھے جن میں سے اب تک کم از کم 35 کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ آٹھ کی تلاش جاری ہے۔

اس حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے جمعے کو ٹرانس ایشیا ایئرلائنز کے طیارے جی ای 235 کے بلیک باکس کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ اس ٹربو پروپیلر طیارے کے دونوں انجنوں نے اڑان بھرنے کے دو منٹ بعد ہی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

بلیک باکس کے جائزے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ عملے نے ایک مرتبہ انجن دوبارہ چلانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

امدادی کارکنوں نے جمعے کو ملبے سے پائلٹ کی لاش بھی برآمد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاؤ چین سنگ کی لاش اس حالت میں ملی کہ ان کا ہاتھ طیارے کا رخ موڑنے والی اسٹک پر تھا۔

لیاؤ چین سنگ کی لاش اس حالت میں ملی کہ ان کا ہاتھ طیارے کا رخ موڑنے والی اسٹک پر تھا۔

،تصویر کا ذریعہCNA

،تصویر کا کیپشنلیاؤ چین سنگ کی لاش اس حالت میں ملی کہ ان کا ہاتھ طیارے کا رخ موڑنے والی اسٹک پر تھا۔

اس حادثے میں مرنے والوں میں اکثریت چینی باشندوں کی ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام سیاح تھے۔

یہ جہاز تائی پے کے ہوائی اڈے سونگشن سے کن من جزیرے کی جانب روانہ ہوا تھا اور ہوائی اڈے سے اڑتے ہی پُل سے ٹکر کر دریا میں گر گیا تھا۔

بہت سے چینی سیاح کن من جزیرے کے ذریعے تائیوان آتے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرانس ایشیا ایئر لائن کا ایک اور جہاز گذشتہ سال طوفانی موسم میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 48 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔