تائیوان: جہاز کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعددا 31 ہو گئی

طیارہ ہوائی اڈے سے اڑتے ہی پُل سے ٹکر کر دریا میں گر گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنطیارہ ہوائی اڈے سے اڑتے ہی پُل سے ٹکر کر دریا میں گر گیا تھا۔

تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں امدادی کارکنوں نے بدھ کی صبح تباہ ہونے والے ٹرانس ایشیا ایئر لائن کے طیارے کا ملبہ دریا سے نکال لیا ہے۔

اس حادثے میں اب تک 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 12 افراد لاپتہ ہیں۔

مرنے والوں میں اکثریت چینی باشندوں کی ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام سیاح تھے۔

اندرونِ ملک جانے والی اس پرواز میں 58 افراد سوار تھے اور امدادی اداروں کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 15 افراد کو نکال لیا گیا ہے اور وہ مقامی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ بچ جانے والے افراد میں ایک چھوٹا بچہ بھی شامل ہے۔

یہ جہاز تائی پے کے ہوائی اڈے سونگشن سے کن من جزیرے کی جانب روانہ ہوا تھا اور ہوائی اڈے سے اڑتے ہی پُل سے ٹکر کر دریا میں گر گیا تھا۔

امدادی کارکنوں نے کرین کی مدد سے جہاز کا ملبہ پانی سے نکالا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں نے کرین کی مدد سے جہاز کا ملبہ پانی سے نکالا ہے۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ امدادی کارکنوں نے کرین کی مدد سے جہاز کا ملبہ پانی سے نکالا ہے۔

حکام کے مطابق لاپتہ 12 افراد کی تلاش کا ریسکیو مشن جاری رہے گا اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

جہاز پر سوار 58 افراد میں سے 31 چینی سیاح ہیں۔

تائی پے میں بی بی سی کی نامہ نگار سنڈی سوئی کہتی ہیں کہ چینی سیاح ممکنہ طور پر وطن واپس جا رہے تھے۔

بہت سے چینی سیاح کن من جزیرے کے ذریعے تائیوان آتے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرانس ایشیا ایئر لائن کا ایک اور جہاز گذشتہ سال طوفانی موسم میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 48 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مسافروں میں سے 31 چینی سیاح ہیں

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشنمسافروں میں سے 31 چینی سیاح ہیں
بہت سے چینی سیاح کن من جزیرے کے ذریعے تائیوان آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبہت سے چینی سیاح کن من جزیرے کے ذریعے تائیوان آتے ہیں
جہاز کے 18 افراد تاحال لاپتہ ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجہاز کے 18 افراد تاحال لاپتہ ہیں