فلپائن: بے گھر افراد کی ’منتقلی‘ پر انکوائری کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہAFP
فلپائن کی حکومت کے یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ اس نے پوپ فرانسس کے دورے کے دوران بے گھر لوگوں کو عارضی طور پر کسی اور جگہ منتقل کیا تھا اس کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سوشل ویلفیئر سیکریٹری کورازن سلیمان نے کہا تھا کہ لگ بھگ 500 افراد کو منیلا کی گلیوں سے اٹھا کر شہر سے باہر ایک تفریحی مقام پر لے جایا گیا تھا۔
ایوانِ نمائندگان کے ممبر ٹیری رڈون نے انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام ’صفائی کا آپریشن‘ تھا۔
پوپ فرانسس گزشتہ ہفتے فلپائن پہنچے تھے اور پیر کو وہاں سے چلے گئے تھے۔
رڈون نے کہا کہ حکومت کی مقام کی تبدیلی کی سکیم بہت بری تھی کیونکہ پوپ فرانسس ’ہمارے ملک میں، اولین طور پر اور سب سے پہلے، ہمارے غریبوں کو دیکھنے اور ان سے بات کرنے آئے تھے۔‘
دی فلپائن ٹائمز کے مطابق ان کا ارادہ ہے کہ وہ مس سلیمان کو بلائیں اور ان سے ان کی ایجنسی کے عمل کی وضاحت مانگیں۔
مس سلیمان نے اس ہفتے کہا تھا کہ بے گھر خاندانوں کو 15 جنوری کو پوپ کے آنے سے پہلے وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔
ان میں سے زیادہ تر منیلا بیچ کے ساحل کے علاقے میں رہتے تھے لیکن انھیں اتوار کی عبادت کے لیے اجتماع سے پہلے ہٹا دیا گیا۔ اتوار کو وہاں تقریباً ساٹھ لاکھ افراد جمع ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
14 جنوری کو انھیں شہر سے باہر ایک سیاحتی مقام پر لے جایا گیا جس کا ایک رات کا کرایہ ہی سینکڑوں ڈالر تھا۔ ان کو پوپ کے جانے کے بعد منگل کو واپس منیلا لایا گیا۔
کورازن سلیمان کا کہنا تھا کہ اب ان کو عارضی طور پر منیلا میں ایک حکومتی سہولت میں رکھا ہوا ہے۔







